خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 106 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 106

خطبات طاہر جلد 14 106 خطبہ جمعہ 10 فروری 1995ء ہی آگ ہے اسے مصائب و بلیات اور رسوائی کا سامنا کرنا ہوگا۔(ابن ماجہ باب الانتفاع بالعلم )۔اب یہ وہ چیز ہے جس کے لئے دعا کی ضرورت پڑتی ہے کیونکہ انسان خود جتنا اپنے نفس سے غافل ہوتا ہے اتنا شاید کسی اور چیز سے غافل نہ ہو کیونکہ بسا اوقات انسان ساری زندگی اپنے ساتھ گزرا کرتا ہے اور اپنے آپ کو نہیں جانتا۔بعضوں کی مرتے وقت آنکھ کھلتی ہے، بعضوں کی اس وقت بھی نہیں کھلتی ، یوم حشر کو ہی کھلے گی جب ان کا حساب ہوگا، جب ان کی جلدیں ان کے اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے۔تو یہ مضمون ایسا ہے جو دعا کی طرف متوجہ کرتا ہے۔بسا اوقات انسان کے ساتھ اس کے نفس کی نمود اس کی ذہنی طاقتوں کے ساتھ ساتھ کام کر رہی ہوتی ہے۔نفس کے نمود کی تمنا اس کے اندر ایسی دبی ہوئی ہے کہ ہر کوشش ، ہر معاملے میں وہ شیطان کی امنیہ کی طرح اس کی سوچوں پر ، اس کی نیتوں پر ،اس کے اعمال پر اثر ڈال رہی ہوتی ہے۔پس علم کے معاملے میں بھی یہ دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ جیسا چاہتا ہے ویسا ہم علم سیکھیں اور اپنی طرف سے ایسا علم حاصل نہ کریں جو ہمارے لئے نقصان کا موجب بنے۔ابن مسعود کی روایت ہے اور تر مندی سے لی گئی ہے آنحضرت ﷺ بیان فرماتے ہیں کہ، اللہ تعالیٰ اس شخص کو تر و تازہ اور خوش حال رکھے جس نے ہم سے کوئی بات سنی اور آگے اسی طرح اسے پہنچایا جس طرح اس نے سنا تھا کیونکہ بہت سے ایسے لوگ جن کو بات پہنچائی گئی ہے سننے والوں سے زیادہ سمجھ رکھتے ہیں اور تفقہ کی طاقت رکھتے ہیں۔(ترمذی کتاب العلم باب الحث على تبلیغ السماع)۔پس یہ بھی ایک بہت ہی ضروری حصہ علم کو ترویج دینے کا ہے کہ جہاں بھی کوئی اچھی علم کی آپ بات سنیں خواہ آپ کو پوری طرح سمجھ آئے یا نہ آئے اسے من وعن آگے پہنچانے کی کوشش کریں کیونکہ اس سے بہت سے ایسے لوگ ہیں جو سنتے ہیں انہیں سمجھ آجاتی ہے بلکہ بعض کیا بہت سے ایسے حضور اکرم ﷺ کے ارشادات ہیں جو چودہ سو سال کے بعد آج بھی خدا کے بعض بندوں کو سمجھ آتے ہیں اور بیچ میں بڑے بڑے غور اور فیض پانے والے موجودرہے لیکن پوری طرح سمجھ نہ سکے اور آئندہ زمانے میں بھی یہی ہوگا۔قیامت تک کے رسول ہونے کا ایک یہ بھی معنی ہے کہ آپ کی باتیں مختلف زمانوں میں اظہار کے لئے مخفی طور پر موجود ہیں لیکن جب ان کے اظہار کا زمانہ آئے گا تو اللہ تعالیٰ خود ایسے بندوں