خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 408
خطبات طاہر جلد 14 408 خطبہ جمعہ 19 جون 1995ء کا بھی محتاج نہیں۔تو اس سے غنی کا دوسرا معنی ابھرتا ہے کہ وہ مستغنی ہے اسے کوئی بھی پرواہ نہیں ہے کہ وہ کسی سے کچھ حصہ لے یا مانگے یا اس کا محتاج ہو وہ کسی سے مانگنے کا محتاج نہیں۔اور وہ حمید ہے اور حمید ہونا بتاتا ہے کہ وہ اگر لے گا تو وہی لے گا جس سے اس کی حمد ظاہر ہوتی ہے۔جس سے اس کی عظمت اور مرتبہ اور خصوصیت سے اسکی حمد کا مرتبہ روشن ہوتا ہے اور کوئی شخص جو ایسی چیز قبول کرتا ہے جو کسی پہلو سے بھی ناقص ہے وہ حمید نہیں رہتا کیونکہ پتا چلتا ہے کہ کمزور چیز کو، ناقص چیز کو سمجھنے دیکھنے کے باوجود اگر اس نے لیا ہے تو ضرور محتاجی بہت کسی حد تک پہنچ چکی ہے۔ایسی حد تک پہنچ چکی ہے کہ اس کے بغیر اس کے لئے چارہ نہیں تھا کہ عزت نفس کو قربان کر دیتا۔یہ محتاجی اگر انسان میں کھانے پینے کے معاملے میں ایک حد سے تجاوز کر جائے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بے شک سو ربھی کھا لیا کر و جان بچانے کی خاطر۔اس لئے ناپاک چیز بھی جان بچانے کی خاطر استعمال ہوسکتی ہے جب احتیاج بڑھ جائے۔تو اللہ کو احتیاج نہیں ہے اور جس کو احتیاج ہو وہ حمید نہیں ہوتا۔پس ہر انسان چونکہ محتاج ہے اس لئے بذات خود حمید نہیں ہے۔حمید خدا سے تعلق جوڑ کر ان صفات سے کچھ حصہ پائے تو حمید ہوسکتا ہے۔مگر جزوی طور پر، خدا کی حمد کے سائے کے نیچے اور حمید بننے کے لئے حمد کرنی پڑے گی جتنی وہ خدا کی حمد کرے گا۔اتنا ہی اس کے اندر حمید ہونے کی صلاحیت بڑھتی چلی جائے گی اور اگر وہ خدا کے معاملے میں یہ احتیاط کرے کہ ہمیشہ اپنی اچھی اور پاک چیز پیش کرے ایسی چیز جو قبول کرتے وقت اس کا دل خود خوشی محسوس کرتا ہو تو اس کے نتیجے میں خدا کے غنی ہونے کا مستغنی والا مضمون نہیں بلکہ دولت مند ہونے والا مضمون اس کے حق میں روشن ہوگا اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اس کو بھی اپنی حمد میں سے حصہ دے گا۔تو اس مضمون میں مثبت پہلو بھی ہیں اور منفی پہلو بھی ہیں۔انسان کے اختیار میں ہے کہ چاہے تو وہ مثبت پہلو اختیار کر لے چاہے تو منفی پہلو اختیار کرے۔ابھی چند دن ہوئے ایک احمدی دوست کا خط آیا کہ ایک دوست تھے ان کا رویہ جماعت کے ساتھ بڑا متشددانہ اور مخالفانہ تھا مگر صاحب فہم تعلیم یافتہ ، روشن دماغ تو ان کو ایک دفعہ میں نے اصرار سے دعوت دے کر آپ کے ایک خطبے پر بلایا اور وہ خطبہ غالباً یہی صفات باری تعالیٰ کا تھا۔خطبہ سننے کے بعد انہوں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور انہوں نے کہا شکر ہے کہ تم نے مجھے وہ دکھا دیا جس کے برعکس میں سنا کرتا تھا اور اب مجھے سنے سنائے کا اعتبار نہیں رہا۔آنکھوں دیکھے کا اعتبار ہو گیا اور جو چیز