خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 314
خطبات طاہر جلد 14 314 خطبہ جمعہ 5 اپریل 1995ء وہ ہے، میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے میری کوئی حیثیت نہیں رہی وہی ہے یعنی محمد رسول اللہ ﷺے تو اس مضمون کو جو ہم اللہ کے حوالے محمد رسول اللہ ﷺ کا مقام سمجھتے ہیں اسی حوالے سے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے غلاموں اور صلى اقرباء کا مقام سمجھا جاسکتا ہے۔ہیں۔فرمایا: دوسری ہے بات عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے کہ اس کے سوا پرستش کے لائق نہیں اس سے مطلب یہ ہے کہ وہ ایسا کامل خدا ہے جس کی صفات اور خوبیاں اور کمالات ایسے اعلیٰ اور بلند ہیں کہ اگر موجودات میں سے بوجہ صفات کا ملہ کے ایک خدا انتخاب کرنا چاہیں یا دل میں عمدہ سے عمدہ اور اعلیٰ سے اعلیٰ خدا کی صفات فرض کریں تو وہ سب سے اعلیٰ جس سے بڑھ کر کوئی اعلیٰ نہیں ہو سکتا وہی خدا ہے جس کی پرستش میں ادنی کو شریک کرنا ظلم ہے“۔( اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 372) یہ جو مضمون ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات جو انسان زیادہ سے زیادہ تصور کر سکتا ہے Perfection کا یعنی کامل ہونے کا۔تمام اللہ تعالیٰ کی صفات انسانی تصور کی Perfection سے بھی اوپر ہیں، اس سمت میں مگر اس سے بھی بالا۔اس ضمن میں جو بعض دنیا کے فلسفی صفات کاملہ پر غور کرتے ہیں ان کی جو پہنچ ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس سے اوپر کی بات کر رہے ہیں۔جو مغرب کے فلسفیوں کا بابا آدم سمجھا جاتا ہے، ڈسکارٹ ،اس نے خدا کی ہستی کی یہ ایک دلیل قائم کی وہ سمجھتا ہے کہ یہ سب سے مضبوط دلیل ہے کہ Imperfect جونا مکمل ہو خود وہ Perfect ذات کا تصور باندھ ہی نہیں سکتا۔اس کو Perfect کا خیال ہی نہیں آسکتا۔تو اس لئے انسان جو کہ کامل نہیں ہے اس نے جو ایک کامل خدا کا تصور پیش کیا ہے یہ اس کی ذات کی پیداوار نہیں ہو سکتی یہ اوپر سے اترا ہوگا لیکن جس تصور کو وہ کامل سمجھ رہا ہے وہ حقیقت میں عیسائی خدا کے تصور کے حوالے سے بات کرتا ہے یا جو خدا کا تصور بھی اس زمانے میں ڈسکارٹ کی دسترس میں تھا اسی کی بات کر رہا ہے حالانکہ وہ تصور نامکمل تھا لیکن اس کو فلسفیانہ طور پر کامل سمجھتے ہوئے وہ یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ ایک غیر کامل چیز ، کامل