خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 990
خطبات طاہر جلد 14 990 خطبہ جمعہ 29 دسمبر 1995ء ہوگی اور اس کے علاوہ کچھ اور بزرگوں کی یا عزیزوں کی بھی ہوگی جن کے اعلان پہلے کئے جاچکے ہیں۔اکرم ظفر اللہ الشواء ابن مکرم محمد الشواء ایڈووکیٹ۔یہ 16 دسمبر 1995ء کو 47 سال کی عمر میں کینسر سے وفات پاگئے۔پچھلے اجتماعی نماز جنازہ غائب میں ان کا اعلان کرنا بھول گئے تھے۔صرف میں نے اپنی ذات میں ان کی یاد میں نماز جنازہ غائب پڑھ لی تھی لیکن اب اس ساری اجتماعی نماز جنازہ غائب میں بھی ان کو پھر یا د رکھا جائے۔ان کی خاص بات تھی کہ ان کے والد تو 1947ء میں احمدی ہوئے یعنی روحانی طور پر 1947ء میں پیدا ہوئے۔یہ 1948ء میں پیدا ہوئے اس لئے پیدائشی احمدی تھے اور سلسلہ کے عاشق تھے۔ایم ٹی اے کے پروگراموں کا اتنا شوق تھا کہ ایک لمحہ کے لئے وہاں سے نظر ہٹا نہیں سکتے تھے اور پیغام بھیجا کرتے تھے کہ ایم ٹی اے زندہ باد۔مجھے زندگی کا مزہ مل گیا ہے اس سے اور سمجھ آئے نہ آئے بیٹھے رہتے تھے اس کے سامنے۔دماغ کا کینسر ہوا اس وجہ سے بالآ خرآ پریشن بھی ہوا سوئٹزر لینڈ میں لیکن عام طور پر دماغ کا کینسر آپریشن کے جواب میں رد عمل دکھایا کرتا ہے۔کچھ دیر کا وقتی آرام پھر پہلے سے بھی بڑھ کر خرابی۔چنانچہ ہر دنیاوی کوشش ناکام رہی۔ان کے والد بھی بہت بزرگ ہیں اور اس علم پر کہ میں نے ان کی نماز جنازہ غائب پڑھی ہے ان کا نہایت ہی محبت اور خلوص کا خط آیا ہے کہتے ہیں میں تو اتنی سی بات سے ہی راضی ہو گیا ہوں، مجھے بہت ہی صبر ملا ہے اس سے۔تو اس لئے ضروری ہے کہ ان کو دوبارہ ہم سب اپنے ذہن میں پیش نظر رکھتے ہوئے نماز جنازہ غائب پڑھیں۔