خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 986 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 986

خطبات طاہر جلد 14 986 خطبہ جمعہ 29 /دسمبر 1995ء لگتی ہیں وہاں یہ خطرات بھی ہیں جن کی نشان دہی قرآن کریم فرماتا ہے اور ایسی کتاب ہے کہ اس کا کوئی جواب نہیں۔کوئی نظیر دنیا میں نہیں ہے اور بھی کتابیں اتری ہیں اور اس شان کی کتاب پہلے کبھی کہیں نہیں اتری۔ہر اچھی چیز کی تحریک فرماتے ہوئے ہر اچھی چیز کے ساتھ منسلک خطرات سے بھی آگاہ کرتا ہے۔کوئی نکال کے تو دکھائے دنیا سے کوئی ایسی کتاب۔اس لئے کہ یہ ایک جاری کتاب تھی جو فطرت کے ساتھ باندھی گئی اور فطرت کے ہر گوشے پر نظر رکھنا اس کتاب کے لئے لازم تھا ورنہ یہ عالمگیر تعلیم نہیں بن سکتی تھی۔پس باقی کتب کا نقص نہیں ہے ان کی مجبوری ہے وہ وقت کے دائروں میں بٹی ہوئی شریعتیں تھیں۔چونکہ محمد رسول اللہ ﷺ پر ایک عالمی نور نازل ہوا ہے جو کل عالم سے تعلق رکھتا ہے اس لئے فطرت سے اس کا باندھا جانا ضروری تھا اور فطرت میں مخفی ہر پہلو کے ساتھ جہاں جہاں تعلق ضروری ہے وہاں قرآن نے باندھا ہے۔جہاں خوش خبریاں دی ہیں وہاں ان خوشخبریوں سے تعلق میں خطرات سے بھی آگاہ فرمایا ہے۔پس یہ خطرات بھی ہیں جو نیک تمناؤں کے ساتھ وابستہ ہیں۔مجھے تو کہیں کسی کتاب میں یہ پڑھنا یاد نہیں کہ نیک تمناؤں کے ساتھ ان کے خطرات کا بھی علم دیا گیا ہو۔قرآن دیتا ہے کہتا ہے یہ دعا بھی، یہ خواہش نیک ہونے کے باوجود بھی خطرے کا موجب بن سکتی ہے۔ہو سکتا ہے تم پہلے سے بھی بدتر حال کی طرف لوٹ جاؤ۔اس لئے جب نیک تمنائیں کیا کرو تو اول خوب غور کر کے، سوچ کر کیا کرو، اپنے دل کی گہرائی تک اپنے نفس کو کر یدو کہ کیا واقعہ تم میں اس کی طاقت ہے بھی کہ نہیں۔کیا جب یہ نصیب ہو جائے گا تمہیں تو تم اس عہد پر قائم رہو گے۔اگر نہیں تو ڈرو اس تمنا سے جو تمنا تمہیں کامیابی کی بلندی عطا کرنے کی بجائے ہلاکت کے گڑھوں کی طرف دھکیل سکتی ہے اور ساتھ دعائیں کرو۔اگر نہ پتا لگے کہ میری تمنا میں کیا کمزوریاں ہیں تو پھر دعائیں کرو کہ اے اللہ ہم تمنا تو کرتے ہیں مگر ہمیں اپنے نفس کے نفوس کے شرور سے بچا اور ہماری تمناؤں کی بھی حفاظت فرما، ان کو پاک اور صاف کر دے اور پھر انہیں پاک اور صاف حالت میں قبول فرما۔پس یہ بھی ایک جائزے کا پہلو ہے اور جائزے میں اپنی اس اولادکو بھی پیش نظر رکھیں کیونکہ میں نے جائزے میں یہ آپ سے گزارش کی تھی کہ اپنا ہی نہیں اپنی بیوی کا بھی ، بچوں کا بھی جائزہ لیں۔آپ میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اولاد کی کامیابیاں دکھائی ہیں اپنے