خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 983
خطبات طاہر جلد 14 983 خطبہ جمعہ 29 /دسمبر 1995ء وقت رش ہے، اتنی بڑی بڑی کمپنیاں اور بڑی بڑی حکومتیں وقت کے لئے بے تاب ہیں کہ یہ وقت پھر تمہارے ہاتھ سے نکل جانا تھا۔اور اللہ تعالیٰ نے اپنا احسان فرمایا اور بعض وقت تو واضح طور پر قطعی طور پر مہیا ہو چکے ہیں بعض کے متعلق وعدہ ہے کہ اتنی دیر تک امید ہے کہ ہو جائیں گے اس میں بھی دو قسم کے امکانات ہیں۔جو میری خواہش تھی وہ تو یہ تھی کہ چوٹی کا جو بھی سامان مہیا ہو سکتا ہے خواہ کیسی ہی قیمت دینی پڑے اتنا اعلیٰ ہو کہ کسی احمدی کی طرف سے پھر کبھی شکایت نہ آئے کہ اب یہ سیٹلائیٹ ڈول گیا، اب یہ مدھم پڑ گیا ، اب نکتے آنے شروع ہو گئے ، اب اپنا ٹیلی ویژن شروع ہوگئی۔اس قسم کی پھر کبھی کوئی شکایت کا موقع نہ ملے ایسا انتظام دے۔اس انتظام کے جو امکانات ابھرے ان میں ایک ایسا بھی تھا جو دنیا میں سب سے زیادہ روشن اور طاقتور نظام ہے اور اس میں ہم نے جگہ بک کرائی لیکن ابھی اس کی آخری صورت طے ہونے میں کچھ دقتیں ہیں۔لیکن متبادل جو اس سے دوسرے درجے کی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بک ہو چکی ہے۔اس لئے مئی کے آغاز سے لے کر پھر آئندہ ساڑھے پانچ سال تک خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ کو میں خوشخبری دیتا ہوں کہ پھر کوئی جماعت کو تنگ نہیں کر سکے گا لیکن جو بیچ کا عرصہ ہے اس کے لئے متبادل انتظام جہاں تک تعلق تھا یورپ کا تو پختہ ہو گیا ہے وہ تو طے ہو چکا، قیمتیں ادا ہو گئیں ،سودے ہو گئے تحریر یں مکمل ہو گئیں۔جہاں تک ایشیاء کا تعلق ہے اس کی راہ میں ابھی کچھ مشکلات ہیں۔میری یہ خواہش تھی کہ یہ سلسلہ ربط نہ ٹوٹے اس لئے خواہ تین گھنٹے کا وقت ملے جو بنیادی طور پر بہت کافی ہے یعنی روزانہ تین گھنٹے جو مرکزی حصہ ہمارے پروگراموں کا ہے وہ یکم مئی تک مسلسل دکھایا جائے۔اس سلسلے میں خدا کے فضل سے کارروائی تقریباً پایہ تکمیل کو پہنچ گئی ہے، کچھ معمولی روکیں ابھی راہ میں ہیں۔احباب دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان روکوں کو دور فرمادے تو پھر تین مہینے جو صبر کے ہیں وہ ایشیا کے لئے تو اس حد تک صبر کے مہینے ہوں گے کہ بارہ گھنٹے یا چوبیس گھنٹے کی بجائے صرف تین گھنٹے روزانہ کا رابطہ رہے گا اور جہاں تک افریقہ کا تعلق ہے ان تین مہینوں میں افریقہ سے ہمارا رابطہ کٹ جائے گا مگر اس کے متبادل کے طور پر خدا نے بعض اور سامان پیدا کر دیئے ہیں۔مثلاً ایک ملک میں جہاں اس وقت جماعت کے رابطے کی شدید ضرورت ہے اللہ تعالیٰ نے یہ سامان پیدا فرما دیا کہ وہاں کی ایک آزاد ٹیلی ویژن کمپنی جس کے پروگرام تقریباً ایک سو کلومیٹر کے دائرے میں مرکز سے، ان کے