خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 984
خطبات طاہر جلد 14 984 خطبہ جمعہ 29 /دسمبر 1995ء Capital سے ایک سو کلو میٹر کے Radius میں یعنی اس دائرے میں سنے جاسکتے ہیں۔ان کو از خود توجہ پیدا ہوئی اور شوق پیدا ہوا ہے کہ وہ ایم ٹی اے کے پروگرام دکھا ئیں اور بغیر کسی معاوضہ کے، بلکہ شکریہ کے ساتھ انہوں نے یہ بات منظور کر لی ہے کہ آپ ہمیں اگر براہ راست رابطہ نہ بھی دے سکتے ہوں تو ویڈیوز مہیا کر دیں۔ہم روزانہ آپ کی ویڈیوز دکھائیں گے اور آپ کا چینل ٹیلی ویژن کا رابطہ نہیں ٹوٹے گا۔پس الحمد للہ کہ ان کو بھی ہم نے ویڈیوز بھجوا دی ہیں۔پس اس طرح خدا تعالیٰ خود ہی سامان فرما رہا ہے۔ایک ملک میں جہاں ویڈیوز یا ٹیلی ویژن کے ذریعے تو رابطہ قائم نہیں ہوسکا وہاں سے خدا نے یہ سامان کر دیا کہ ریڈیو کا Chain سٹیشن ہے ایک، جنہوں نے بہت ہی معمولی قیمت پر یعنی اتنی معمولی قیمت پر کہ وہ آدمی سن کے حیران رہ جاتا ہے، جماعت کے لئے ایک سال کے پروگرام وقف کر دیئے ہیں کہ ہم آپ کے یہ پروگرام با قاعدہ دکھائیں گے۔شروع میں انہوں نے تھوڑے پروگرام لئے ہیں۔اب میں ان کو لکھ رہا ہوں کہ اس کو زیادہ کریں۔مگر ابھی سے ان کا جواثر ہے وہ بہت حیرت انگیز ظاہر ہو رہا ہے۔ان پروگراموں کے نتیجے میں دور نزدیک سے لوگ رابطے کر رہے ہیں اور احمدیت کی طرف توجہ بڑھ رہی ہے۔پس یہ سال جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا جہاں سازشوں کا سال تھا وہاں سازشوں کی جوابی کارروائی کا سال بھی تھا اور وہ جو جوابی کارروائی ہے وہ جاری رہے گی اور یہ سال ختم ہونے تک سازشوں کے گلے گھونٹے جائیں گے انشاء اللہ اور آپ دعائیں کریں اور اللہ تعالیٰ ان دعاؤں کو قبول فرمائے گا اور آسمان سے جو رحمت برسنے کا فیصلہ ہو چکا ہے وہ تو بر سے گی بہر حال، دنیا کی کوئی طاقت اس کو روک نہیں سکتی۔اب اس کے بعد جو نو ر والا مضمون تھا اس کی طرف واپس جانے کا اب وقت نہیں رہا کیونکہ وہ ایک اور آیت کے حوالے سے میں آپ کے سامنے کھولنا چاہتا تھا۔وہ انشاء اللہ ہم آئندہ خطبے میں تو نہیں مگر اس کے بعد کا غالباً جو جمعہ آئے گا اس میں پھر اس مضمون کو شروع کر سکیں گے۔آئندہ خطبے میں اس لئے نہیں کہ یہ ایک لمبے عرصے سے جماعت کا دستور چلا آ رہا ہے کہ سال کا آخری خطبہ یا اگلے سال کا پہلا خطبہ وقف جدید کے لئے وقف ہوتا ہے اور مجھ پر دباؤ تو یہی تھا یعنی درخواستیں تو یہی