خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 977 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 977

خطبات طاہر جلد 14 977 خطبہ جمعہ 29 /دسمبر 1995ء کرتا ہے اس کو ایک بھولے پن سے بلند تر مقام دیتا ہے اور دکھا دیتا ہے کہ کیا بات ہے۔میں نے ان سے کہا آپ پیغام ہی نہیں سمجھتے وہ یہ کہ کر گئے ہیں کہ اگلی اپریل تک تم سمجھتے ہو کہ اللہ تمہارے حق میں کوئی نشان دکھائے گا ہم تمہیں بتانے آئے ہیں کہ وہ نشان جماعت احمدیہ کی ہلاکت کا نشان ہوگا اور ہم پھر آئیں گے اور پھر اس تاریخ کو مل کر بتائیں گے کہ کس طرح تمہاری پیش گوئیاں جھوٹی نکلی ہیں اور جھوٹوں کے ساتھ یہی سلوک ہوا کرتا ہے۔یہ بد بخت نیت تھی جس کو اسی سال نے پرورش دی ہے اور اور بھی کچھ نیتیں ہیں اور سازشیں ہیں جو اس سال میں اندر اندر پنپتی رہی ہیں جس طرح کیڑے پلتے ہیں۔خوراک کے نیچے سطح سے نیچے بظاہر آنکھ سے دکھائی نہیں دیتے مگر وہ کلبلا رہے ہوتے ہیں اور جب سطح پھٹتی ہے تو پتا لگتا ہے کہ ساری خوراک کیڑے کیڑے بن چکی ہے۔پس یہ سال جو گزرا ہے یہ بعض عظیم برکتوں کی تیاری کا سال بھی ہے اور بعض نہایت بھیا نک اور خوفناک سازشوں کا سال بھی ہے اور ایسی سازشیں بھی ہیں جو جماعت کے ساتھ ہی تعلق نہیں رکھتیں سارے ملک پاکستان سے تعلق رکھتی ہیں اور ایسی سازشیں ہیں جن کی ایک نوع کی سازش کو دوسرے سے الگ کیا ہی نہیں جاسکتا۔پس کچھ آثار ایسے ظاہر ہوئے ہیں جن کے اوپر سے مزید پردے اٹھائے جائیں گے۔جس کے حالات معلوم کر کے آپ اندازہ کر سکیں گے کہ کتنی خوفناک سازش جماعت کے خلاف تھی جسے اللہ نے چاک کر کے اس کے پر خچے اڑا دیئے ہیں اور دشمن کے لئے وہی سازش اس کی سزا میں تبدیل کی جائے گی۔یہ وہ مضمون ہے جس کا اس آیت کریمہ ے تعلق ہے۔اور ان کا نور جو ہے وہ عارضی آگ کے شعلوں سے تعلق رکھنے والا نور ہے لیکن وہ وفا کرنے والا نو ر نہیں۔وہ نور جس کا میں نے پہلے ذکر کیا ہے وہاں بھی ایک آگ کا ذکر ہے مگر آگ سے بچائے جانے کا ذکر ہے۔فرمایاوہ نور کسی آگ کا محتاج نہیں ہے۔وہ آسمانی نور ہے خواہ وہ زمین سے پیدا ہو اور اس آسمانی نور پر آسمان سے ایک نور اترتا ہے لیکن یہ نور جو آگ کی پیداوار ہے یہ تو ایسا بے وفا نور ہے کہ اس آگ کے بھڑ کانے والوں کو اپنی آگ کے نتیجے دیکھنے تک کی وفا بھی نہیں کرتا۔پیشتر اس کے کہ اس کے نتیجے ظاہر ہوں وہ نوران کو چھوڑ کے چلا جاتا ہے، ان کی آنکھیں اندھی ہو جاتی ہیں، کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا اور حیران رہ جاتے ہیں کہ ہوا کیا ہے ہم سے اور بالکل برعکس نتائج ظاہر ہوتے