خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 974 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 974

خطبات طاہر جلد 14 974 خطبہ جمعہ 29 /دسمبر 1995ء اندر یہ بھی ایک طرح سے صحیح ترجمہ ہو سکتا ہے میں اس کا انکار نہیں کرتا مگر جس پہلو سے میں اسے دیکھ رہا ہوں یا دعا کے بعد اللہ نے مجھے سمجھایا ہے میں سمجھتا ہوں کہ وہ زیادہ گہرا ترجمہ ہے جو آنحضرت ﷺ کے تعلق میں زیادہ عمدگی سے چسپاں ہوتا ہے۔وہاں یہ مفہوم لیا جاتا ہے کہ ولو لَمْ تَمْسَسْهُ نَارُ یہ تیل اپنی ذات میں ایسا شفاف تھا جو بھڑک اٹھنے کے لئے تیار بیٹھا تھا خواہ اسے آگ نہ بھی Touch کرے یعنی مس نہ کرے۔پھر جب اللہ کا نور نازل ہوا تو گویا اس شعلہ نور نے آگ کا کام کیا جس نے اسے اور بھی بھڑ کا دیا اور نُورٌ عَلَى نُورِ بن گیا۔لیکن وہاں اللہ کی طرف سے نار اترنے کا تو کوئی ذکر نہیں ہے، نور اترنے کا ذکر ہے اور پہلی جگہ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَار کا ذکر ہے۔اس سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ انسانی صلاحیتوں کے تیل پر بعض دفعہ اس کی فطرت کی نار بھی اثر انداز ہوتی ہے اور بسا اوقات انسان اپنی صلاحیتوں کو اپنی اندرونی نار سے بھڑکا تا ہے اور وہ فائدہ مند ہونے کی بجائے نقصان کا موجب بن جاتی ہیں۔بنیادی طور پر وہ صفات نیک و بدسب میں برابر ہیں لیکن نارنے ان کو بھڑ کا یا ہے یا نور سے وہ بھڑ کی ہیں، ان دو چیزوں میں بڑا نمایاں فرق ہے۔لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارُ سے میرے نزدیک مراد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے وجود کو نارمس نہیں کر سکتی تھی ، ناممکن تھا کہ کسی پہلو سے بھی نار آپ کی ذات پر اثر انداز ہو۔لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَار کا مطلب ہے باوجود اس کے کہ آپ کی کسی نفسانی خواہش نے آپ کی صلاحیتوں پر کوئی اثر نہیں ڈالا۔ایک لمحہ کے لئے بھی کسی نفسانی خواہش سے آپ متاثر نہیں ہوئے پھر بھی وہ ایسا نور تھا جو خود بخود چمک اٹھنے کے لئے تیار بیٹھا تھا۔پس نارنے تو مس نہیں کیا ہاں آسمان سے ایک شعلہ نور اترا ہے جو وحی کا نور تھا اور اس نے نُورٌ عَلَى نُورِ کی کیفیت پیدا فرما دی۔پس نار اور نور کا ایک اکٹھا کر وہاں ملتا ہے اور ایک یہاں ملتا ہے جہاں اہل نار کے نور کا ذکر ہے ان کو بھی ایک قسم کا نور ملتا ہے۔اہل نار وہ ہیں جو آگ بھڑ کانے والے ہیں جیسے تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وتَبَّ ( الهب: 1) میں ذکر ملتا ہے کہ ایسا بھی بد بخت تھا جو آ گئیں بھڑکا تا پھرتا تھا اور قرآن کریم کے آغاز ہی میں یہ بات بعض گروہوں کی طرف منسوب فرمائی گئی۔بعض شریروں اور کفار کی طرف کہ وہ بھی مومنوں کے خلاف آگ بھڑکاتے پھرتے ہیں اور جب آگ بھڑک اٹھتی ہے تو وہ اس سے