خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 972
خطبات طاہر جلد 14 972 خطبہ جمعہ 29 /دسمبر 1995ء ٹھنڈے مزاج کے ساتھ غور کرنا چاہئے اپنے حالات پر غور کرنا چاہئے۔وہ ذمہ داریاں جو آپ کے سپرد ہیں ان پر غور کرنا چاہئے۔مثلاً شادی شدہ ہیں تو بیوی اور بچوں پر نظر ڈال کر دیکھیں کہ کتنا وہ دین کے قریب آئے ہیں، کتنادین سے دور ہٹے ہیں۔نیکی کی باتوں میں دلچسپی پر کیا کیا حال ہے۔کیا اس سال میں وہ دنیا کے گندے پروگرام دیکھنے کی طرف زیادہ مائل ہوئے ہیں یا دینی پروگراموں میں دلچسپی بڑھی ہے۔غرضیکہ یہ جائزہ بہت وسیع ہے اور اپنے زیر نگیں سب کا خیال رکھنا چونکہ یہ بھی ہماری ذمہ داری ہے، جو ہمارے سپرد ہوئے ہوئے ہیں ان کے متعلق بھی ہم پوچھے جائیں گے تو اپنی ذات سے یہ جائزے کا سفر شروع کریں اور اس کو پھیلاتے چلے جائیں، گردو پیش میں، اپنی بیوی، اپنے بچوں پر، اپنے ماحول پر ، دوستوں پر ، عزیزوں پر اور بالعموم یہ نظر ڈالیں کہ یہ سال ہمارا کیسا رہا اور پھر اس سے گزشتہ سال پر بھی ایک اڑتی سی نظر ڈال لیں یہ طے کرنے کے لئے کہ آپ کا قدم روحانی لحاظ سے آگے بڑھ رہا ہے یا پیچھے ہٹ رہا ہے کیونکہ یہ جائزہ وقتا فوقتا ضروری ہے۔خصوصیت کے ساتھ جب سالوں کے جوڑ آتے ہیں اس وقت تو یہ جائزہ بہت ہی ضروری ہو جایا کرتا ہے۔رمضان مبارک بھی آنے والا ہے۔پچھلے رمضان سے اس کا موازنہ بھی ہم کریں گے انشاء اللہ اور میں گزشتہ رمضان میں یہ آپ کو واضح طور پر نصیحت کر چکا ہوں کہ رمضان سے رمضان کے سفر کا بھی جائزہ لیا کریں۔سال کبھی ایک خاص مقام سے باندھے جاتے ہیں اور خاص مقام تک چلتے ہیں۔کہیں ایک دوسرے مقام سے باندھے جاتے ہیں اور پھر اسی مقام تک آئندہ سال تک چلتے ہیں۔تو جہاں تک انگریزی مہینوں کا تعلق ہے اس کا سفر یکم جنوری سے شروع ہوگا اور 31 / دسمبر پر ختم ہو گا۔جہاں تک اسلامی مہینوں کا تعلق ہے رمضان سے ہمارا سال شروع ہوتا ہے یعنی عملاً ہم شعوری طور پر رمضان ہی سے سال شروع کرتے ہیں اگر چہ محرم سے سال شروع ہوتا ہے مگر میرے نزدیک تو رمضان ہی ہے سال کا پیمانہ۔رمضان سے شروع ہوتا ہے اور رمضان پر جا کر ختم ہوتا ہے۔اس پہلو سے ایک اور بات بھی ہے جس کی طرف آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔اس سال کے آغاز میں میں نے آپ کے سامنے یہ ذکر کیا تھا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو بعد گیارہ انشاء اللہ ( تذکرہ صفحہ: 327) الہام کا ذکر فرمایا ہے اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ اس کی تفہیم پوری طرح ظاہر نہیں ہوئی۔مختلف علماء مختلف وقتوں میں اسے مختلف حالات پر چسپاں کرتے