خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 968 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 968

خطبات طاہر جلد 14 968 خطبہ جمعہ 22 /دسمبر 1995ء اس سے زیادہ نہیں۔اس کے بعد جو نظام جاری ہوگا انشاء اللہ وہ اس چار مہینے کی تکلیف کا بہت مداوا کرے گا اور بارہ گھنٹے کی بجائے چوبیس گھنٹے کا نظام جاری ہوگا، انشاء اللہ۔تو اس لئے یا درکھیں جہاں خدا نے اپنے فضل فرمائے اور ہم میٹھا میٹھا کر کے ان کو ہڑپ کرتے رہے اور مزے لیتے رہے ،کبھی کچھ تھوڑ اسا کڑوا گھونٹ بھی مل جائے تو شکر کے ساتھ اسے پئیں۔شکایتوں کے طومار نہ لگایا کریں، کئی ممالک سے شکایتوں کے طومار لگ گئے ہیں کہ کہاں ، کیا ہو گیا، کیا ہوگیا ، آواز میں بند ہو گئیں ، ٹیلی ویژن فلاں جگہ بند ہو گیا، فلاں جگہ وہ گندی فلمیں آنا شروع ہو گئیں ، ان کو میں نے لکھا مجھے پتا ہے نیتیں آپ کی اچھی ہیں۔آپ کا دل چاہتا ہے کہ روحانی مائدہ جو خدا تعالیٰ نے جاری فرمایا ، اس کی عادت آپ کو پڑ چکی ہے، یہ ہمیشہ ملتا رہے لیکن اس پر اتنا بے چین نہ ہوں کہ وہ بے چینی ناشکری میں تبدیل ہو جائے۔اس بات کو یا درکھیں ایک دفعہ ایک بادشاہ نے جس کو اپنے خاص غلام سے جو غلامی ہی کے رستے سے وزارت تک پہنچا تھا بہت زیادہ پیار تھا۔اس پر ہونے والے اعتراضات سن سن کر آخر فیصلہ کیا کہ اس قضیے کو ایک دفعہ چکا دیا جائے کہ کون اچھا ہے اور کیوں اچھا ہے۔چنانچہ ایک دفعہ بھرے دربار میں اس نے ایک ایسا بڑا خربوزہ یا سردہ یا گرما جس کو جو بھی آپ کہیں اس کی ایک قاش اس غلام کو پیش کی جس کے متعلق اس نے تسلی کر لی تھی کہ انتہائی کڑوا اور سخت بد مزہ پھل ہے جس کی قاش پیش کی جارہی ہے کیونکہ بعض دفعہ پانی وقت پر نہ ملے تو بعض پھل بیلوں میں وہیں کڑوے ہو جایا کرتے ہیں اور ان کی کڑواہٹ اتنی سخت ہوتی ہے کہ عام روز مرہ کی کڑواہٹ سے بھی زیادہ شدید متنفر کرنے والی۔تو جب قاش اس غلام کو پیش کی تو اس نے کھانی شروع کی اور اس قدر مزے لے لے کر کھائی ، اس نے کہا بادشاہ سلامت لطف آ گیا۔جزاک اللہ۔کمال کر دیا آپ نے ، آپ کے بڑے احسانات ہیں اور ساری قاش کھا گیا۔اس کے بعد نمبر دو اس گروہ کے سردار کو پیش کی جو اعتراضات کیا کرتے تھے تو ایک لقمہ ہی منہ میں گیا تھا کہ تھو کر کے درباری آداب کو بھی ملحوظ نہیں رکھا قاش اٹھا کے پھینک دی اور کہا بادشاہ سلامت اتنی خطرناک بدمزہ۔ایسی کڑوی چیز تو میں نے زندگی میں کبھی نہیں چکھی۔بادشاہ نے کہا مجھے یہ پتا تھا مگر یہ بھی تو انسان ہے، اس کو بھی میں نے یہی قاش دی تھی اس نے تو کچھ اور ردعمل دکھایا ہے تمہارا رد عمل اور ہے۔اس نے پھر اس کی طرف متوجہ ہو کے کہا، پوچھا اس سے کہ تمہیں کیا ہو گیا تھا اتنی کڑوی، اتنی بدمزہ قاش کھاتے وقت ذرہ بھی چہرے پراثر