خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 969
خطبات طاہر جلد 14 969 خطبہ جمعہ 22 دسمبر 1995ء ظاہر نہیں کیا اور ساری کی ساری کھا گئے ہو۔اس نے کہا اے بادشاہ سلامت آپ کے احسانات میں ڈوبا پڑا ہوں۔ایک ایک میٹھی قاش جو آپ نے مجھے عطا کی ہے ساری زندگی ان قاشوں کے مزے لوٹتا رہا ہوں۔میں ایسا بد نصیب اور بد بخت نہیں ہوں کہ ایک آزمائش کی قاش آئے تو اس پر تھو تھو کر دوں۔بادشاہ نے کہا یہ فرق ہے۔جو شکر گزار بندے ہوا کرتے ہیں انہی کو عظمتیں عطا کی جاتی ہیں ، انہی کو سعادتیں نصیب ہوتی ہیں۔پس جو بھی خدا نے ہم پر احسان فرمائے یہ ہماری کسی کوشش اور کاوش کا نتیجہ نہیں تھے ، جاہل ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہم پر بنا ہے اور ہماری کوشش کے نتیجے میں ہمیں کچھ نصیب ہورہا ہے، وہ مالک اور قادر خدا جس طرف سے چاہے جہاں سے چاہے اس نے آسمان سے ہم پر رحمتوں کی بارشیں نازل فرمانی ہی فرمانی ہیں۔پس اگر وقتی ابتلاء پیش آئیں تو ان میں ثابت قدم رہیں۔ان پر بھی خدا کا شکر ادا کریں اور یہ بھی سوچیں کہ آپ کو کتنی عظیم نعمت ملی تھی کہ اب اس کے نہ ہونے سے کتنی بے چینی محسوس ہو رہی ہے۔تب آپ کو سمجھ آئے گی کہ نعمتوں کی قدر کیسے کی جاتی ہے تب آپ کا ذہن اس طرف منتقل ہونا چاہئے کہ اتنا عرصہ تو ہم نے ناشکری میں گزارا ہے۔احساس ہی نہیں کیا کہ خدا نے ہمیں کیا کچھ عطا فرمایا تھا۔پھر اس کے نتیجے میں جب خدا کے فضل نازل ہوں گے تو ان کی کوئی انتہا نہیں ہوگی اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ دنیا کی طاقت خدا کے فضلوں کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔یہ الہی تقدیر ہے تمام دنیا کی پھونکوں سے بھی یہ چراغ بجھایا نہیں جا سکتا جو آج محمد مصطفی ﷺ کے دین کو غالب کرنے کے لئے روشن فرمایا گیا ہے۔