خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 962 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 962

خطبات طاہر جلد 14 962 خطبہ جمعہ 22 /دسمبر 1995ء اور اپنے اپنے دائرے میں اپنے نیک عمل اور نیک نمونے کے ذریعے وہ اپنے ماحول کو روشنی عطا کر سکتے ہیں اگر وہ خود روشن ہو چکے ہوں۔پس روشنی شرط ہے۔نور شرط ہے پھر جتنا بھی آپ سفر کریں گے وہ نور ہی کا سفر ہو گا۔جہاں جائیں گے آپ کو مردوں کو زندہ کرنے کی طاقت عطا کی جائے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ کام اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے در اصل لیکن جب مردہ زندہ ہوتا ہے تو اس کو نور مل جاتا ہے۔پس اس میں دو پہلو ہیں جن کو میں نمایاں طور پر آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔جرمنی کی جماعت سے خصوصیت سے یہ بار بار سوال اٹھایا گیا ہے کہ ان لوگوں کی تربیت کیسے کی جائے اور تربیت کے متعلق انہوں نے بہت ہی عمدہ کارروائیاں بھی کی ہیں۔مگر تربیت کا آخری مرکزی نقطہ وہی ہے جو اس آیت میں بیان ہوا ہے کہ اگر تم اپنے نور سے کسی کو زندہ کرو گے جو خدا کی طرف سے تمہیں عطا ہوا ہے تو وہ زندہ ہونے والا ضرور نور حاصل کر لے گا اور اگر دلائل سے کرو گے تو دلائل کی مار میں وہ ان سے دور بھی ہٹ سکتا ہے۔مگر جسے خدا کا نور نصیب ہو جائے وہ کبھی دور نہیں جاسکتا۔تو سب سے پہلے اپنے اندر وہ جلا پیدا کریں وہ مزاج روشن کریں جس مزاج سے آپ نے دنیا کو فتح کرنا ہے اور ایسا روشن وجود بن جائیں جس کی طرف اندھیروں سے دنیا از خود اس طرح دوڑی چلی آئے جیسے راتوں کو شمعیں دیکھ کر پروانے اپنے سوراخوں سے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔وہ جو اڑ نا نہیں جانتے ان کو بھی اللہ پر عطا کر دیتا ہے اور وہ نور پر ایسا فدا ہوتے ہیں کہ مسلسل اس کی طرف جاتے ہوئے اپنی جانیں بھی فدا کر ڈالتے ہیں اور وہی نور کی محبت ان کے دل میں جو پیدا ہوتی ہے اسی کے نتیجے میں، اسی تعلق میں پھر ان سے وہ نسلیں پیدا ہوتی ہیں جو آگے بڑھتی ہیں اور ان کی نشو و نما اور ان کے دوام کا موجب بن جاتی ہیں۔ان کی تولید کا نظام اس نوری محبت کے ساتھ منسلک فرما دیا گیا ہے۔پس آپ کو بھی ویسا ہی نور بنا ہوگا کہ اندھیروں سے از خود پروانے نکل نکل کر آپ کی طرف آئیں گے۔پروانوں کو کوئی بلانے والی آواز شمع کے رخ سے ہٹا نہیں سکتی۔ناممکن ہے کہ پروانے نور کو دیکھ لیں اور رستے میں کچھ ان کو بہکانے والے اور بھڑ کانے والے اور وساوس پیدا کرنے والے دل میں یہ بات پھونک دیں کہ یہ شمع تو تمہیں جلا دے گی ، بہت بری ہے، قربانیاں دینی پڑیں گی اس کی طرف نہ ہی جاؤ تو اچھا ہے ، جو مرضی کریں انہوں نے تو جانا ہی جانا ہے۔چونکہ نور کے ساتھ