خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 961
خطبات طاہر جلد 14 961 خطبہ جمعہ 22 /دسمبر 1995ء اَوَ مَنْ كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَهُ وَجَعَلْنَالَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهُ فِي الظُّلُمَتِ لَيْسَ بِخَارِجِ مِنْهَا كَذَلِكَ زُيِّنَ لِلْكُفِرِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الانعام:123 ) کہ بتاؤ تو سہی ،غور تو کر و اَوَ مَنْ كَانَ مَيْتًا کہ وہ جو مردہ ہوۓ فَأَحْيَيْنَهُ پس ہم نے اسے زندہ کر دیا ہو وَ جَعَلْنَا لَهُ نُورًا اور اس کے لئے ایسا نور بنا دیا ہو يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ وہ نور لئے لوگوں میں پھرتا ہو۔کیا اس کی مثال ویسی ہو سکتی ہے۔كَمَنْ مَّثَلُهُ فِي الظُّلُمتِ لَيْسَ بِخَارِجِ مِنْهَا ایسے اندھیروں میں بھٹکنے والے جیسی مثال یہ ہو سکتی ہے جو ان اندھیروں سے کبھی نکل نہ سکے۔پس نور محمد مصطفی ہے جس کے غلبے کی خبر دی گئی ہے اس کی یہ تعریف فرمائی گئی کہ مردوں کو زندہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور خدا جب زندہ کر دیتا ہے ان مردوں کو تو ہر زندہ ہونے والے مردے کو ایک نور عطا کرتا ہے اور وہ نور لے کر عوام الناس میں بنی نوع انسان کے اندر پھرتے ہیں، اپنی روشنی کو لئے ہوئے اور ہر آدمی ان کی روشنی سے ان کو پہچان سکتا ہے۔یہ نور ہے جس کے حق میں غلبے کا وعدہ ہے۔پس اگر جماعت احمدیہ نے تبلیغ کرنی ہے تو اس نور سے لازماً حصہ لینا ہوگا اور تبلیغ تو ہمارا فرض منصبی ہے ایسا فریضہ ہے جس سے کوئی بھی آزاد نہیں۔چھوٹے بچے بھی اپنی توفیق کے مطابق تبلیغ کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں اور اللہ کے فضل سے ان کی بھولی بھالی صاف باتوں کا بھی دوسرے بچوں گہرا اثر پڑتا ہے۔مگر میں نے دیکھا ہے کہ جو عیسائی متعصبین سے بحثوں میں مبتلا رہتے ہیں بسا اوقات کبھی بھی اس کا نیک انجام نہیں ہوا مگر جو اپنے کردار کے ساتھ اثر انداز ہو جاتے ہیں ، ان بچوں پر نیک اثر ڈالتے ہیں ان کو اپنے گھروں میں بلاتے ہیں ان کی کایا پلٹ جاتی ہے۔بچپن سے ہی ان کے اندر اسلام کی محبت پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے۔ابھی کل ہی ایک علاقے کے سکول کے بچے مجھے ملنے آئے اور تین بچے عیسائی تھے اور تین احمدی بچے تھے اور تینوں نے بتایا کہ یہ ہمارے دوست ہیں ان کو دیکھ کر ہمیں توجہ پیدا ہوئی ہے۔ان کے ساتھ رہ کر ہمارے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ آپ سے بھی ملاقات کریں اور ملاقات کے وقت میں حیران ہوا ان کی طرز گفتگو، ان کا انداز ایسا سلجھا ہوا تھا اور لگتا تھا پہلے ہی ایک تعلق قائم ہو چکا ہے تو بچے بھی خدا کے فضل سے تبلیغ کی صلاحیت رکھتے ہیں