خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 957
خطبات طاہر جلد 14 957 خطبہ جمعہ 22 /دسمبر 1995ء جلوہ گری بھی کرنی تھی یعنی اس احمد کی اطاعت میں اسی سے رنگ پکڑ کر آخری زمانے میں احمدیت کا ایک مثیل دنیا میں ظاہر ہونا تھا۔اس کے متعلق لوگوں نے یہ کہنا تھا کہ وہ جھوٹا ہے۔اس الزام کے خلاف یہ دلیل قائم کی جارہی ہے کہ اگر وہ جھوٹا ہے تو خدا اسے کیسے پینے دے گا جبکہ مزید اس پر یہ اتہام بھی ہو کہ اس پر حجت تمام کی جا چکی تھی۔اس نے جھوٹے دعوے کیے اور ہم نے اس کو اسلام کی طرف بلایا بھی۔پس یہ بلانے والا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہر گز نہیں ہیں۔پس جیسا کہ میں نے ایک مضمون کو دوسرے مضمون کی طرف منتقل کیا ہے اس کا قطعی ثبوت یہ آیت ہے کیونکہ آنحضرت ما کو تو کبھی کسی نے اسلام کی طرف نہیں بلایا۔پس لازماً احمد کی اس شان کا ذکر ہے جس شان نے دنیا کے آخر پر ظاہر ہونا تھا اور اس کا یہ دعوی ہونا تھا کہ خدا نے مجھے قائم فرمایا ہے اور اس کو لوگوں نے بلانا ا تھا کہ تم جھوٹے ہو، دغا باز ہو، آؤ ہم تمہیں اسلام کی دعوت دیتے ہیں اسلام قبول کرلو۔حالانکہ اسلام کا محافظ اور علم بردار اور سب سے بڑی خدمت کرنے والا تو وہی وجود ہونا تھا جسے خدا نے چنا تھا۔تو یہ پیشگوئی بڑی وضاحت، بڑی تفصیل، بڑی شان کے ساتھ جماعت احمدیہ کی صورت میں حضرت مسیح موعود کی بعثت کے بعد پوری ہو چکی ہے۔آج بھی جب مولویوں کی باسی کڑھی میں ابال اٹھتے ہیں تو یہی خط اخباروں میں شائع کرتے ہیں ، کھلے خط ، ہم مرزا طاہر احمد کو اسلام کی طرف بلا رہے ہیں۔تمہارے آباؤ اجداد نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ جو کیا وہ یہی تو تھا اور یہی تو پیشگوئی ہے جو قرآن کریم میں محفوظ تھی اور آج اسی طرح پوری ہو رہی ہے جس طرح ایک سو سال پہلے پوری ہو چکی ہے۔تم جس کو اسلام کی طرف بلا رہے ہو وہی تو اسلام کا نمائندہ اس دنیا میں ہے ،اسی کے سائے تلے تم آؤ تو اسلامی کہلاؤ گے ورنہ تمہارا اسلام سے تعلق کاٹا جائے گا۔اس کو سمجھو اگر نہیں سمجھتے تو تمہارا اپنا نقصان ہے۔مگر جو چاہو کر لو، جتنی کوششیں کرنی ہیں کرو اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے جو ضرور پورا ہوگا ، اٹل۔تمہاری کوئی کوشش کوئی تدبیر اس الہی تقدیر کو ٹال نہیں سکتی ، تبدیل نہیں کر سکتی۔يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللهِ بِأَفْوَاهِهِمْ یہ جاہل سمجھتے ہیں کہ اپنی مونہوں کی پھونکوں سے اس چراغ کو بجھا دیں گے جو خدا کا چراغ ہے ، جو اللہ نے روشن فرمایا ہے وَاللهُ مُتِمُّ نُورِ؟ یہ تو تقدیر کا فیصلہ ہے ضرور اسے پورا کر کے چھوڑے گا وَلَوْ كَرِهَ الْكُفِرُونَ خواہ کا فرکیساہی ناپسند کریں۔ہے۔