خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 949
خطبات طاہر جلد 14 949 خطبہ جمعہ 15 دسمبر 1995ء حالت میں ڈوب جاتے ہیں مگر وہ غفلت ان کو دنیا سے غافل کرتی ہے اور اللہ کے احساس کو روشن تر کرتی چلی جاتی ہے اس حالت میں نماز سے منع نہیں فرمایا گیا وہ تو نماز کا مقصد ہے۔تو یہ خلاصہ کلام ہے۔ہوشیاری بھی ہے اور چالا کی بھی دو قسم کی چیزیں ہیں اور ہوشیاری بھی اور بیہوشی بھی ، بیدار مغزی بھی ہے اور بے ہوشی بھی ہے۔ان دونوں کا ایسا لطیف اور باریک فرق حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام اس خط میں کر دکھایا ہے کہ بالآخر یہ نتیجہ نکالا کہ اس قسم کی حالت جو عبودیت سے پیدا ہوتی ہے یہ سب سے اعلیٰ مقام ہے جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو عطا ہوا اور عبودیت کاملہ کے نتیجے میں آپ نے وہ دیکھا جو اور کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا مگر انسان کے دائرے میں رہتے ہوئے اور انسان محض کشفی حالتوں میں دیکھ سکتا ہے ظاہری آنکھ سے نہیں دیکھا کرتا۔آپ کے الفاظ ہیں انسان زمانہ سیر سلوک میں اپنے واقعات کشفیہ میں بہت سے عجائبات دیکھتا ہے یہ کشفیہ حالت اس نیند سے بالکل مختلف ہے جو نفسانی وجوہات کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے اور وہ نیند وہ ہے جس کے متعلق فرمایا کہ اس حالت میں تم نماز کے قریب تک نہ جاؤ۔اب جہاں تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رویت کا تعلق ہے وہ لازما وہی رویت ہے جو خدا تعالیٰ کے پردہ نور کی انتہاء درجے تک فراست اور اس کی کنہ کو اس حد تک پانا ہے جس حد تک انسان کامل کے لئے مقدر تھا۔ان سے آگے بڑھنے کا کوئی ذکر نہیں۔چنانچہ حضرت عکرمہ کی ایک حدیث ترمذی کتاب التفسیر میں اس طرح بیان ہوئی ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا۔عکرمہ کہتے ہیں جب میں نے یہ سنا تو میں نے پوچھا کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا: لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ (الانعام : 104) کہ اللہ کو آنکھیں نہیں پہنچ سکتیں ،نظر نہیں پہنچ سکتی۔ہاں اللہ نظروں تک پہنچتا ہے تو پھر آپ کیسے کہہ رہے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔اس پر حضرت ابن عباس نے کہا تیرا بھلا ہو یہ وہ رویت ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس نور کے ساتھ تجلی فرمائی جو اس کا نور ہے۔اور وہ نور کیا ہے حضرت محمد رسول اللہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کا حجاب ہے اور اس حجاب سے صل الله بڑھ کر کچھ دکھائی نہیں دے سکتا۔اگر دکھائی دے تو ساری کائنات کالعدم ہو جائے ،اچانک