خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 945
خطبات طاہر جلد 14 945 خطبہ جمعہ 15 دسمبر 1995ء غالب کہتا ہے کہ ہوش، توجہ کے ساتھ تم سننا اور سمجھنا، سننے کا جال شنیدن سننا، اس کے جتنے چاہے جال بچھا دے مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا کہ ہمارے لکھنے یا ہمارے کلام کا جو مدعا ہے وہ تو عنقا ہے پھر بھی نہیں پکڑا جائے گا۔مراد یہ ہے، اب یہ مبالغے کی حد ہے، دیکھیں انبیا تو ایسے مبالغے نہیں کیا کرتے مگر وہ لوگ جو جانتے ہیں کہ ہم نے بالا رادہ زیادہ مضامین باندھے ہیں اور بمشکل انہیں بیان کر سکے ہیں یہ بھی ایک احساس رکھتے ہیں کہ ہر کس و ناکس اس مضمون کو پا نہیں سکے گا۔مگر مضمون کا مشکل ہونا اس کی قدر نہیں گھٹاتا بلکہ اس کی قدر بڑھا دیتا ہے۔یہ کہنا چاہتا ہے غالب۔عنقا ایک ایسے فرضی پرندے کا نام ہے جیسے ہما ہے اب مجھے صحیح تلفظ یا دنہیں عنقا ہے کہ عنقا۔میں تو عنقا ہی پڑھا کرتا ہوں وہ کہتا ہے کہ وہ پرندہ جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اگر کسی پر اس کا سایہ پڑ جائے تو وہ بادشاہ ہو جاتا ہے وہ پرندہ کسی دام میں ہاتھ نہیں آیا کرتا۔پس میرے مضمون کو تم اگر پاگئے تو بادشاہ ہو جاؤ گے، دولت مند ہو جاؤ گے مگر تمہاری توجہ جتنا چاہے سنے، سننے کے لئے جال بچھا لے تم اس کو پکڑ نہیں سکو گے۔مگر اگر پکڑ لیا تو پھر بہت بڑا مطلب پاؤ گے۔یہ بات اسی طرح حقیقت سے خالی ہے جیسے عنقا کا وجود خالی ہے کچھ بھی نہیں۔مگر میں آپ کو انسانی فطرت کے طریقے بتا رہا ہوں کہ وہ اس طرح بھی باتیں کرتے ہیں۔وہ لوگ جو مشکل پسندی کرتے ہیں یا مشکل باتیں لکھنے پر مجبور ہوتے ہیں توجہ ضرور دلا دیا کرتے ہیں کہ بڑی قیمتی باتیں ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو اللہ سے نور یافتہ تھے اس لئے نور کا کام ہے کہ ہر رستے کے اونچ نیچ سے آگاہ کرے ، متنبہ کرے، ہر ٹھوکر سے پہلے ہی سے خبر دار کر دے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو تین دفعہ فرمایا ہے اور بعید نہیں کہ وہ کئی لوگ ہوں جن کو تین دفعہ پڑھ کے بھی سمجھ نہ آئے۔مگر یہ تو دعا کرنی چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مطالب کو سمجھنے کا نور ہمیں اللہ ضرور عطا کرے کیونکہ وہ مطالب ہیں جو قرآن کے مطالب ہیں ، وہ مطالب صلى الله ہیں جو محمد رسول اللہ ﷺ کے مطالب ہیں۔پس آپ جو یہ فرمارہے ہیں کہ جسمانی ظلمت نہ تھی۔یہ واقعہ روحانی تھا جس کا موجب کوئی جسمانی ظلمت نہ تھی مراد یہ ہے کہ موسیٰ کے وجود میں کوئی جسمانی ظلمت ایسی نہیں تھی جس کے نتیجے میں بجلی کو دیکھنے سے آپ محروم ہو گئے اور بے ہوش ہو کے جا پڑے۔یہ ایک نورانی واقعہ ہے یعنی وہ