خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 939
خطبات طاہر جلد 14 939 خطبہ جمعہ 15 دسمبر 1995ء قرآن بھی تھا۔یہاں اگر قرآن نور ہے تو اس آیت کو کہاں لے جائیں گے جہاں مَثَلُ نُورِ؟ ( النور : 36) میں واضح طور پر محمد رسول اللہ ﷺ کا ذکر ملتا ہے اور ایک زندہ ظاہر وجود کا ذکر ملتا ہے۔پس ایک ہی جگہ دو معنی مانیں یا مختلف جگہوں میں وہی معنے الگ الگ دیکھیں، یہ انگلی ایک ہی طرف اشارہ کرتی ہے یا دونوں انگلیاں ایک ہی طرف اشارہ کریں گی یعنی محمد رسول اللہ اللہ اور قرآن کریم۔قرآن کریم کو حبل اللہ کے طور پر مضبوطی سے پکڑنا ضروری قرار دیا گیا ہے اور آنحضرت کو بھی مضبوطی سے حبل اللہ کے طور پر پکڑ نا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ایک پہلو سے حبل اللہ قرآن ہے دوسرے پہلو سے حبل اللہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺے ہیں۔ان دونوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں ہو صلى الله سکتی۔ناممکن ہے کہ کوئی شخص یہ کہے میں نے قرآن پر تو مضبوطی سے ہاتھ ڈال دیا ہے مگرمحمد رسول اللہ نے پر مضبوطی سے ہاتھ نہیں ڈالا ہوا۔کہیں کہیں کچھ کمزوری رہ گئی ہے کہیں کوئی رخنہ رہ گیا ہے۔یہ ناممکن ہے۔اگر قرآن پر ہاتھ ہے تو سیرت محمدی پر بھی پورا ہاتھ ہونا چاہئے اور کوئی فرق نہیں ہوسکتا۔پس قرآن پر ہاتھ ڈالنا تو ہر کس و ناکس کا کام بھی نہیں ہے۔اس کے لئے جو گہرے فہم کی ضرورت ہے اس کے لئے بھی تو ایک نور چاہئے اور بغیر اس نور کے آپ اس نور کو دیکھ نہیں سکتے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتارا گیا اور اس نور کو دیکھنے کے لئے کمی ، تقویٰ کی کمی سے ہوتی ہے۔اب ان دونوں باتوں کو ملا کر دیکھیں تو پھر اس حدیث کی سمجھ آتی ہے کہ جہاں آنحضرت ﷺ نے تقویٰ کا ذکر فرماتے ہوئے بڑے جلال کے ساتھ بار بار اپنی چھاتی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تقویٰ یہاں ہے، تقویٰ یہاں ہے، تقویٰ یہاں ہے۔وہ کامل نور بصیرت جس سے قرآن کی ہر ہدایت کو دیکھنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔وہ تمام تر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کونصیب ہوا تھا۔پس اگر کسی کی نظر کمزور ہو تو دیکھنے والے کا سہارا لیا کرتا ہے۔خالی لاٹھی سے تو زندگی کے گزارے نہیں چلتے۔لاٹھی سے ٹولتا ہوا اندھا جاتا ہے پھر بھی ٹھوکریں ہی کھاتا ہے۔مگر لاٹھی سے تو بہتر وہ کہتے ہیں جن کو کچھ دکھائی دیتا ہے اور جو اپنے مالکوں کو ہمیشہ خطروں سے بچا کر چلتے ہیں اور وہ جس کو کامل نور بصیرت عطا ہوا، اس کے ہاتھ میں ہاتھ دیا جائے تو اپنی آنکھوں کی سب خرابیوں سے بچ کر ان کے شرور سے جو اپنے نفس کے شرور ہیں ان سے پہلو تہی کرتے ہوئے ، ان سے بیچ کر قدم قدم صحیح ہدایت کی طرف چلنے کی توفیق مل سکتی ہے اور ان معنوں میں ہی آنحضرت ﷺے وسیلہ ہیں۔انہی معنوں میں