خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 940 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 940

خطبات طاہر جلد 14 940 خطبہ جمعہ 15 دسمبر 1995ء قرآن وسیلہ ہے اور انہی معنوں میں ان آیات میں آخر صراط مستقیم پر پہنچنے کا ذکر ملتا ہے۔اب دوبارہ آپ ان کو سنیں تو پھر آپ پر یہ بات کھل جائے گی۔يَايُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمْ بُرْهَانٌ مِنْ رَّبِّكُمْ وَاَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورًا مُّبِينًا (النساء : 175) اے لوگو تمہارے پاس ایک کھلی کھلی روشن دلیل آچکی ہے اور روشن دلیل ایسی جو صدیقوں کو دکھائی دیتی ہے اور جانتے ہیں کہ اس سے بڑی دلیل کوئی نہیں۔اس دلیل کے طور پر حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں۔اگر خواہی دلیلے عاشقش باش محمد برهان صلى الله ( در تین فارسی: 141) صلى الله اگر دلیل ڈھونڈ رہے ہو تو عاشق ہو جاؤ کہ برہان جس کا ذکر ملتا ہے وہ خود محمد رسول اللہ ﷺ ہی ہیں۔محمد سے بڑھ کر محمد کی اور کوئی برہان نہیں ہے۔پس وہاں یہ نہیں کہا کہ محمد کو دیکھنا ہے تو پہلے قرآن کو سمجھو۔قرآن سمجھنے کی سب میں کہاں توفیق ہے۔وہ نور ہی نہیں ہے جس کے ذریعے قرآن دکھائی دے یا کامل طور پر دکھائی دے سکے۔مگر محمد رسول اللہ ﷺ ایسے نور مبین ہیں جو دور دور تک دکھائی دیتے ہیں مگر اس کے لئے بھی کچھ اندرونی صداقت کا ہونا ضروری ہے اور یہ نور ، قرآن کے نور کے مقابل پر زیادہ عیاں ہے کیونکہ انسانی شکل میں ہے۔زیادہ قریب الفہم ہے کیونکہ انسانی فطرت اس کو دکھانے میں ، اس کو سمجھانے میں انسان کی مددگار ہو جاتی ہے لیکن تقویٰ کی وہاں بھی شرط ہے لیکن وہ تقوی نہیں جو علم عطا کرتا ہے۔وہ تقویٰ اور ہے اور ایک تقویٰ یہ ہے کہ جہاں بیچ دیکھا وہاں اسے پہچان لیا۔چنانچہ آنحضرت ﷺ کو دلیل سمجھنے کی سب سے زیادہ عظیم الشان مثال حضرت ابوبکر صدیق کا ایمان لانا ہے۔جب آنحضور ﷺ نے دعوئی فرمایا تو حضرت ابوبکر صدیق وہاں موجود نہیں تھے بلکہ کسی سفر پر گئے ہوئے تھے۔جب واپس تشریف لائے تو آپ کی لونڈی نے اس خیال سے کہ بہت گہرا دوست تھا اگر اس کو پتا چل گیا کہ محمد رسول الله ، یعنی رسول اللہ ہے تو اس نے نہیں کہا وہ تو مشرکہ تھی کہ آنحضرت ﷺ کی طرف ذہن لے جاتے ہوئے اس نے سوچا کہ یہ شخص محمد ایسا ایسا ہو گیا ایسی ایسی باتیں کرتا ہے تو کہیں بہت گہرا صدمہ نہ پہنچ جائے تو اس نے آہستہ آہستہ جس طرح کوئی