خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 922
خطبات طاہر جلد 14 922 خطبہ جمعہ 8 دسمبر 1995ء فرماتے ہیں اور جو میں نے چھپایا اور جو میں نے ظاہر کیا اس کے متعلق بھی میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں۔فرمایا اسے بھی بخش دے۔اب یہ بھی عجیب مضمون ہے، چھپایا اور ظاہر کیا۔حقیقت میں اللہ کے سامنے جو نُورُ السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ (النور :36) ہے کوئی چیز چھپ سکتی ہی نہیں۔ناممکن ہے کہ اس نور سے کوئی چیز چھپ جائے جس کا پردہ نور ہے جو اس پردہ نور کے پیچھے ایک مخفی نور ہے جس تک انسان یا کسی مخلوق کے تصور کی رسائی ممکن نہیں ہے۔اس سے کوئی چیز چھپ ہی نہیں سکی اور وہ ہر چیز سے چھپا ہوا ہے یعنی اپنی نور کی انتہائی صورت میں مقام تنزہ پر واقع ہے۔اس عرش پر واقع ہے جو مخلوق سے پر لی طرف ایسے مقام پر ہے یعنی اپنے مرتبے کے لحاظ سے اور اپنی لطافت کے لحاظ سے کہ وہاں رسائی ممکن نہیں ہے۔سب سے بڑی رسائی ،سب سے اونچی رسائی ،سب سے اعلیٰ اور ارفع رسائی معراج کے وقت حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کو نصیب ہوئی مگر ایک مقام پر جا کر وہاں ٹھہر گئے۔اس سے آگے توحید کامل کا وہ مقام ہے جس میں مخلوق کو خواہ وہ کیسی ہی اعلیٰ درجے کی ہو دخل نہیں ہے اور اسی کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مقام تنزہ کا عرش فرمایا ہے۔فرمایا عرش کی تو بہت سی قسمیں ہیں۔آپ بیان بھی فرماتے ہیں لیکن ایک ہے مقام تنزہ کا عرش اس میں صرف خدا اور خدا کی ذات رہ جاتی ہے اور کچھ نہیں پہنچتا۔تو خدا تعالیٰ کی ذات سے وہ چونکہ ہر جگہ ہے، کوئی چیز مخفی نہیں اور بہت سے اس کے ایسے مراتب اور مقامات ہیں جو حقیقت میں ان گنت ہیں اور ان کا کوئی کنارہ نہیں ہے جس تک مخلوق کی پہنچ نہیں ہوسکتی خواہ وہ کیسا ہی ترقی کرلے تو صلى الله اس لئے اس سے تو کچھ چھپ نہیں سکتا۔حضرت رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو میں نے چھپایا اور جو میں نے ظاہر کیا اسے بھی بخش دے۔تو ہی آگے بڑھانے والا ہے اور تو ہی پیچھے ہٹانے والا ہے۔پس قیام کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی چیز کو ایک ہی جگہ ٹھہرائے رکھا جائے۔قیام کا یہ اگر مطلب ہے تو وہ غلط مجھتے ہیں کیونکہ قیام سے مراد جمود نہیں ہے۔قیام سے مراد اپنی طاقتوں میں قائم رہنے والا جس سے کسی وجود کی طاقتوں میں کسی قسم کی کوئی کمی نہ آئے۔مگر آنحضرت ﷺ کا ئنات کا جو نقشہ کھینچ رہے ہیں اس میں دو ہی باتیں بیان فرماتے ہیں ، آگے بڑھانے والا اور پیچھے ہٹانے والا اور یہی ہر چیز کی حقیقت ہے۔کوئی چیز کسی مقام پر جامد نہیں ہے۔یا آگے بڑھ رہی ہے یا پیچھے ہٹ رہی ہے۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وہاں یہ عرض کیا تھا اپنے رب سے کہ اس نور