خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 921 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 921

خطبات طاہر جلد 14 921 خطبہ جمعہ 8 رو سمبر 1995ء نور حاصل کیا جا سکتا ہے۔آپ نے فرمایا ہے سب ذرائع سے بڑھ کر سب سے اعلیٰ درجہ کا نور حاصل کرنے کے لیے عبودیت کا مقام ضروری ہے اور عبد ہونا سب سے بڑا کام ہے۔الله اس پہلو سے یہ نمونے ہیں آنحضرت ﷺ کی عبودیت کے اور عبدیت کے کہ اپنے آپ کو مٹاتے چلے جاتے ہیں، کچھ بھی نہیں چھوڑتے۔فرماتے ہیں جو کچھ میں نے کیا تو جانتا ہے۔جہاں تک میں جانتا ہوں میں سمجھتا ہوں مجھے اس کی بخشش طلب کرنی چاہیے۔یعنی یہ نہیں فرماتے کہ جو کچھ میں نے کیا اچھی باتیں کی ہیں ان کی بھی جزا دے جو کمزوریاں کہیں رہ گئیں ہیں ان کو بخش دے بلکہ ساری زندگی کا ہرلمحہ بخشش کی چادر کے نیچے لانا چاہتے ہیں اور کسی ایک لمحے پر بھی خودسری نہیں ، خود اعتمادی اس رنگ کی نہیں کہ گویا اس پر آدمی تکبر سے نظر ڈال سکے کہ وہ تو ٹھیک تھا۔اب دیکھیں مقام نبوت اور دیگر مقامات کے فرق کیسے ہوتے ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے آخری لمحات میں یہ عرض کی تھی لالی و علی اور مفسرین لکھتے ہیں کہ مراد یہ تھی کہ میں نے بہت سے نیک اعمال بھی کیے ہیں اور میں یہ نہیں کہتا کہ ان نیک اعمال کے بدلے مجھے بخش دے کیونکہ جو مجھ سے کمزوریاں سرزد ہو گئی ہیں ان کے مقابل پر ان کو لکھ کر برابر کر دے۔یہ ایک بہت ہی عارفانہ دعا تھی۔مگر اب مگراب دیکھیں آنحضرت ﷺ کی التجا جو ہر رات کو اٹھ کر خدا کے حضور کیا کرتے تھے ، اپنی ساری زندگی کی نیکیوں کو کلیۂ مٹا ہوا دیکھ رہے ہیں اور یہ عرض کر رہے ہیں کہ ان پر اپنی بخشش کی چادر ڈال دے۔میں نہیں جانتا میں نے کیا کیا ہے اور جس نے دیکھا ہو کہ ساری زندگی نیکی میں گزری ہے اور غلامی کی یہ شان ہے کہ اسے دیکھتے ہوئے بھی یہ جانتا ہے کہ محض اللہ کے فضل سے یہ توفیق ملی تھی اس لئے جو لغزش ہوئی ہے وہ میری کمزوری سے ہوئی ہے۔یہ نکتہ ہے جو عارفانہ نکتہ ہے۔محض ایک فلسفیانہ بحجز نہیں ہے بلکہ عارفانہ بجز ہے۔آنحضرت ﷺ سب سے بڑھ کر جانتے تھے کہ جو کچھ عطا ہوا ہے اللہ کے فضل سے عطا ہوا ہے پھر اسے اپنے کھاتے میں اپنی طرف کس طرح منسوب کر دیں۔مگر اس فضل کے مقابل پر شکر میں کوئی کوتا ہی ہوگئی ہو ، اس فضل کے بہترین اور سب سے اعلیٰ درجے کے استعمال میں کمزوری ہوگئی ہو تو وہ اپنی طرف منسوب فرما رہے ہیں اور کہتے ہیں اس پر بخشش کی چادر ڈال دے اور جو آئندہ ہونے والا ہے اس کا کوئی حال معلوم نہیں۔پس اللہ کے علم میں اللہ کے نور میں یہ ساری باتیں موجود ہیں۔جو پہلی تھیں وہ بھی اور جو آئندہ آنے والی تھیں۔وہ بھی۔