خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 916 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 916

خطبات طاہر جلد 14 916 خطبہ جمعہ 8 رو سمبر 1995ء انسان کے احاطہ تصور میں بھی نہیں آسکتا مگر جب غور کرے تو ضرور کچھ نہ کچھ ملتا ہے اور غور کرو اور محنت کرو تو اللہ تعالیٰ ہمیشہ کچھ نہ کچھ عطا فرما دیتا ہے۔پس اس پہلو سے اس وقت اس مضمون کا میں صرف اشارہ ہی ذکر کر سکتا ہوں۔آئندہ کبھی توفیق ملی اور آنحضرت ﷺ کی سیرت کے مضمون کو بطور سیرت کے خطبات میں بیان کرنے کا موقع ملا تو پھر انشاء اللہ اس مضمون کو وہاں اٹھاؤں گا۔سیرت کے بغیر تو کوئی بات ہوتی ہی نہیں اس لئے کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں کہہ رہا ہوں کہ میں سیرت کا بیان اب نہیں کر رہا آئندہ کروں گا۔میری مراد صرف اتنی ہے کہ سیرت کے عنوان کے تابع آنحضرت ﷺ کی سیرت طیبہ پر بات کرنا ایک بہت ہی لمبی محنت کا تقاضا کرتا ہے اور بہت ہی لمبے سلسلہ خطبات کا تقاضا کرتا ہے۔مگر ویسے جو بات بھی کی جائے اس میں سیرت طیبہ کا حوالہ تو لازم ہے کیونکہ آنحضرت کی صفات حسنہ کے بغیر تو کوئی بھی انسانی زندگی کا مضمون مکمل ہو ہی نہیں سکتا خواہ زندگی کا کوئی بھی پہلو ہو۔پس اس وضاحت کے بعد اب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہی حوالے سے اس مضمون کا خلاصہ پیش کر دیتا ہوں جو پچھلے خطبہ میں بیان کیا۔یعنی اگر نور کا لفظ سمجھنا ہے تو صلى الله سیرت طیبہ کے ہر پہلو کو دیکھو۔اس سیرت طیبہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کا ہر پہلو اپنا ایک نور کا رنگ رکھتا ہے مگر دوسرے پہلو کے مقابل پر جدا بھی دکھائی دیتا ہے اور ایک تیسرے پہلو کے مقابل پر پھر اس سے اور الگ دکھائی دیتا ہے لیکن اپنی ذات میں ہر ایک نور ہے اور جب ان سب کا اجتماع ہوتا ہے، یہ نور ایک مشعل میں اکٹھے ہو جاتے ہیں تو پھر جو روشنی پیدا ہوتی ہے وہ ان نوروں کے اجتماع سے پیدا ہوتی ہے اور آخری صورت کو نور کہا جاتا ہے۔پس کسی کا نوراگر روشن ہونا ہوتو صفات اقدس محمد مصطفی ﷺ کو اپنی ذات میں جاری کرنے اور اسے اپنانے سے ان سے محبت کرنے اور انہیں گلے اور سینے سے لگانے سے ہی پیدا ہو سکتا ہے مگر یہ باتیں انشاء اللہ اس خطبے کے دوران یا بعد میں اور مواقع پر انشاء اللہ کچھ نہ کچھ پیش کرتا رہوں گا۔خلاصہ یہ ہے: آؤ لوگو کہ یہیں نور خدا پاؤ گے لو تمہیں طور تسلی کا بتلایا ہم نے ( در مشین : 16) اسلام ہی ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں تم نور خدا پاؤ گے