خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 909
خطبات طاہر جلد 14 909 خطبہ جمعہ یکم دسمبر 1995ء نور مانگ رہا ہوں مجھے تو نور نہیں ملا بھی نہیں ملا کا لفظ نہیں ہے لیکن دعا کی طرز یہ ہے اللہ میرے دل میں صلى الله نور پیدا کر دے۔دوسرے اس میں یہ مضمون ہے کہ نور کی عطا کے ساتھ نور کی پیاس بجھ نہیں جایا کرتی بلکہ بڑھ جایا کرتی ہے اور وہ سب جاہل جو کہتے ہیں کہ ہم نے سب کچھ پا لیا۔ہمیں اللہ سے مل گیا ، وحی نازل ہوگئی ، بیل گیا ، وہ مل گیا۔ان سے بڑا بے وقوف دنیا میں کوئی نہیں کیونکہ جس کو سب سے زیادہ ملا اس نے ایسے جھولی پھیلائی جیسے خالی ہو۔اس نے تو ایسے ہاتھ بڑھایا جیسے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا تو مراد یہ ہے کہ دینے والے کی عطالا متناہی ہے اور ہر عطا کے بعد اور مانگو اور مانگو اور مانگو۔یہی وجہ ہے کہ جنت کے سردار حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو اپنے ہمراہیوں کے ساتھ جنت میں اس طرح آگے بڑھتا ہوا دکھایا گیا ہے کہ منہ پر یہی دعا تھی رَبَّنَا اَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا - رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا اے ہمارے رب ہمارا نور تمام کر دے۔مکمل کر دے تو وہی دعا جو آپ نے جنت میں کرنی تھی یہ وہی مضمون ہے اس دنیا ہی سے اس کا آغاز ہو چکا تھا۔آپ فرماتے تھے کہ اے میرے رب میرے دل میں نور پیدا کر دے یعنی اتنا لطف آیا ہے پہلے نور سے اس کے باوجود بھوک نہیں مٹی اور مزید کی طلب پیدا ہوگئی ہے پس پیدا کر دے سے مراد ہے نیا اور نور عطا کر دے یہ مراد ہے نہ کہ واقعہ ایک خالی دل ہو۔پس یہ دعا کے بھی انداز ہیں اور انکسار کے بھی اور معرفت کے یہ خاص انداز ہیں جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے اللہ سے سیکھے اور ہمیں سکھائے۔فرمایا میری آنکھوں میں نور اور میرے کانوں میں نو ر اور آنکھوں کا نور نہیں تھا تو دیکھا کس طرح پھر۔آنکھوں کا نور تھا اور اتنا تھا کہ دنیا میں کسی کو وہ نور عطا نہیں ہوا کیونکہ آنکھ کے نور کے نتیجے میں انسان آسمانی نور کو دیکھ سکتا ہے اور سب سے زیادہ نورالہی کے جلوے ، نورالہی ذات میں تو کسی کو دکھائی دے نہیں سکتا۔اس کی تجلیات آپ نے دیکھی تھیں۔ابھی آنکھوں کی حرص بھی پوری نہیں ہوئی اور ایک ایک عضو کر کے بتایا جا رہا ہے اس میں محبت کی انتہا بھی دکھائی دیتی ہے۔اتنا پیار ہے اللہ کے نور سے کہ ایک ایک عضو کے لئے الگ الگ جھولی پھیلائی جا رہی ہے، ہاتھ اٹھایا جارہا ہے ، اے اللہ مجھے تجھ سے اتنا پیار ہے کہ میرے دل میں نور پیدا کر دے۔میری آنکھوں میں نور عطا کر دے اور میرے کانوں میں نور، میرے کان کیوں محروم رہیں ان کو بھی نور کی بھیک عطا کر اور میرے دائیں بھی