خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 908 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 908

خطبات طاہر جلد 14 908 خطبہ جمعہ یکم دسمبر 1995ء دے اور میری آنکھوں میں نور اور میرے کانوں میں نو ر اور میرے دائیں نور اور میرے بائیں نور اور میرے اوپر نور اور میرے نیچے نور اور میرے آگے نور اور میرے پیچھے نور کر دے اور مجھے نور بنادے۔اب یہ جو حدیث ہے یہ اس لئے میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں کہ اس سے بعض جو سرسری نظر سے دیکھنے والے ہوں ان کے لئے غلط نبی پیدا ہوسکتی ہے۔آنحضرت ﷺ کو مَثَلُ نُورِ؟ قرار دے کر پھر جو نقشہ کھینچا گیا ہے وہ تو حیرت انگیز ہے کہ آسمان سے شعلہ نور نہ بھی اترا تو یہ از خود بھڑک اٹھنے کے لئے تیار تھا پھر یہ دعا کیا معنی اور پھر قرآن کریم میں جو خوشخبری دی گئی ہے نور کی اس کے دائیں طرف چلنے کا ذکر ہے اور یہاں بائیں طرف بھی نور مانگا گیا ہے اور انسان پیچھے کی طرف تو نہیں جایا کرتا ، پیچھے بھی نور مانگا گیا ہے تو اس حدیث کے حوالے سے ان اطراف کا کیا معنی ہے اور اس دعا کا کیا مقصود ہے۔فرمایا اے اللہ میرے دل میں نور پیدا کر دے۔اب آپ کا دل تو نورالہی کا تخت گاہ تھا اور منور اور روشن دل تھا ” پیدا کر دے سے کیا مراد ہے؟ در حقیقت یہ وہ نور ہے جو جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا جس کی انتہا کوئی نہیں ہے جو بڑھنے والا ہے۔اس دعا میں دو باتیں ہیں جو بالکل واضح ہیں اول یہ کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کا مقام انکسار دکھایا گیا ہے۔دوسرا مقام عرفان بتایا گیا ہے۔انکسار اس پہلو سے کہ جس کو خدا تعالیٰ یہ خوشخبری دے کہ اول ما خلق الله نوری آپ فرماتے ہیں مجھے جو خدا نے بتایا ہے اس لحاظ سے خدا نے جو کچھ بھی پیدا کیا ہے سب سے پہلے میرا نور پیدا کیا۔جس کو یہ خوشخبری مل چکی ہو جس کو خدا کے نور کی مثال قرار دیا گیا ہو اور جس کو آسمان سے اترنے والا نور قرار دیا گیا ہو جس کے ساتھ قرآن کا نورا ترا وہ یہ کیا کہ رہا ہے کہ اے خدا میرے دل میں نور رکھ دے۔اس کا مطلب واضح ہے کہ آپ انکسار کے بھی انتہائی مقام پر تھے اور عرفان کے بھی انتہائی مقام پر تھے۔آپ جانتے تھے کہ نور کے عطا ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پورا خدا مل گیا ہے یا خدا کے نور کی انتہا کسی کو عطا ہوسکتی ہے۔آپ بندے کا مرتبہ سمجھتے تھے اور جانتے تھے کہ یہ نسبتی باتیں ہیں۔اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھنے کا سفر لامتناہی ہے، کبھی ختم ہونے والا نہیں اور خدا سے نور اس طرح مانگوں جیسے جھولی خالی ہو۔یہ انکسار کا بھی کمال ہے اور عرفان کا بھی کمال ہے۔رَبِّ إِنِّي لِمَا اَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرِ فَقِيرُ (القصص: 25) میں جس طرح ایک خالی جھولی والا فقیر بن کر حضرت موسی نے دعامانگی تھی آپ نے یوں دعامانگی گویا میں تو