خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 905 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 905

خطبات طاہر جلد 14 905 خطبہ جمعہ یکم دسمبر 1995ء اس کے کہ دن کے اعمال شروع ہوں رات کے اعمال کا حساب لے لیا جاتا ہے۔یعنی یہ خیال بھی پوری طرح ایک معاملے کو نہ سمجھنے کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے کہ صرف آخرت کے دن ہی حساب کتاب ہوگا۔وہ حساب کتاب ہو چکا ہو گا صرف اس کے نتیجے ظاہر کئے جائیں گے۔حساب کتاب تو روز روز ساتھ ساتھ ہورہا ہوتا ہے ، اسی حساب کتاب کے نتیجے میں ہماری روح، جہنمی بن رہی ہوتی ہے یا جنتی بن رہی ہوتی ہے۔پس سَرِيعُ الْحِسَابِ ( البقرہ : 203) کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ انتظار نہیں کرتا بہت لمبے عرصے ، حساب کا، ساتھ ساتھ ایک حساب کا نظام جاری و ساری ہے اور انسان کی روح پر نیک اثرات بھی مرتب ہو رہے ہوتے ہیں ، بداثرات بھی مترتب ہو رہے ہوتے ہیں اور جو اس کا عمل ہے وہ اپنے ساتھ نتیجے پیدا کرتے چلا جاتا ہے۔پس وہ تکڑی کے دو تھال ہیں جس کے اوپر وزن رکھا جاتا ہے مراد یہ ہے کہ ان کو نیچا بھی کرتا ہے اور اونچا بھی کرتا ہے۔ارادہ نہیں بلکہ فیصلہ فرماتا ہے ایسا کہ جن کے نتیجے میں بعض اعمال بے وزن دکھائی دینے لگتے ہیں اور بعض اعمال با وزن دکھائی دینے لگتے ہیں اور اس کی طرف رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے اٹھایا جاتا ہے۔مراد یہ ہے کہ ہر رات کی صف لپیٹنے کے ساتھ ہی اس رات میں جو بھی اعمال ہوئے ہیں ان سب کے متعلق فیصلہ ہو چکا ہوتا ہے کہ یہ اعمال کس نوعیت کے تھے، کیا ان کی حیثیت ہے، ایسا کرنے والے سے کیا سلوک ہونا چاہئے اور ساتھ ہی دن کے اٹھنے سے پہلے دن کے حسابات بھی سارے طے ہو چکے ہوتے ہیں۔پھر فرمایا حجابهم نور اس کا حجاب نو ر ہے یعنی لوگوں کے حجاب تو نور کو چھپانے کے لئے جیسے ہوتے ہیں ورنہ جو لوگ چھپنا چاہیں وہ اگر حجاب کے بغیر رہیں گے تو ننگے ہو جائیں گے۔پس اللہ تعالیٰ نے نور کا حجاب اوڑھا ہوا ہے، عجیب مضمون ہے لوگ نور چھپانے کے لئے حجاب استعمال نور کا حجاب اوڑھا ہوا ہے۔اس کا حجاب ہی نور ہے۔پس جدھر تم دیکھو گے خدا کا نور دکھائی دے گا اور یہ وہ مضمون ہے جو کائنات پر نظر ڈالنے میں ایک نیا رنگ پیدا کر دیتا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ جدھر بھی دیکھو اسی طرف خدا کا نور دکھائی دیتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وہ نظم چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کل ہو گیا کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمال یار کا (درشتین: 10)