خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 86
خطبات طاہر جلد 14 86 خطبہ جمعہ 3 فروری 1995ء دوسروں کو بھی منور کرنے والا ہے وہ ایسا نور ہے جو ایک گھر سے دوسرے گھر میں منتقل ہوتا ہے اس گھر کو روشن کر دیتا ہے پھر سینہ بہ سینہ چلتا ہے دوسرے گھروں کو بھی روشن کرتا چلا جاتا ہے۔وہ ایسا نور تو نہیں ہے جو پیچھے چھوڑ دیا جائے اور غائب کر دیا جائے۔اس لئے دعا کو اگر آپ سچے معنوں میں سمجھیں تو یہ رمضان آپ کے لئے دائمی برکات لے کر آیا ہے جو آپ کے پاس چھوڑ جائے گا۔دائمی برکات کو لایا ہے ضرور اس میں تو کوئی شک نہیں۔ہر رمضان ایسا ہے جبکہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق آسمان سے رحمتیں لے کر خدا سماء الدنیا میں اتر آتا ہے اور خود طلب کرتا ہے کوئی ہے مانگنے والا تو میں آیا ہوں، تمہیں دوں گا۔ایسے مانگنے والے چاہئیں جو عطا کرنے والے کا مزاج تو سمجھیں یہ تو پتا کریں کہ وہ آیا ہے تو کیسے دے گا۔کیا ہر پکارنے والے کے منہ کی پکار کا جواب دے گا جب کہ وہ پکارنے والا جب خدا، اسے پکارے گا تو منہ موڑ کر دوسری طرف چلا جائے گا ، ہر گز نہیں۔ایسا خدا تو نوکروں سے بھی بدتر ہے جو اس غرض کے لئے آپ کے ذہنوں نے بنا رکھا ہے۔حقیقی خدا وہ ہے جس کی بندگی کی جاتی ہے اور وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ میں لفظ عباد میں یہ کنجی رکھ دی گئی ہے۔میرے بندے جو ہیں ، شیطان کے بندے نہیں۔میرے بندے بن کر رہیں جن کو میری ذات پر کامل یقین ہے ان کو بتا دے کہ میں تو ہر وقت ان کے ساتھ ہوں اور اپنے بندوں کو کبھی نہیں چھوڑ تا لیکن بندہ بھی تو آقا کو نہیں چھوڑتا۔بندہ تو آقا کو چھوڑ سکتا ہی نہیں یہ مضمون ہے جس کی طرف آپ کو توجہ کرنی چاہئے کیونکہ بندہ تو غلام کو کہتے ہیں۔عبد غلام کو کہتے ہیں اور آقا کو تو اختیا ر ہے جب چاہے غلام کو چھوڑ دے، غلام کو اختیار ہی نہیں ہے۔تو اگر ایک انسان اپنے لئے ایک ایسی حالت پیدا کر لے کہ اللہ کی محبت اور اطاعت کی زنجیروں میں ایسا جکڑا جائے کہ اسے چھوڑ نہ سکے۔ہرا بتلا کے وقت وہ اپنے آپ کو آزما کے دیکھے اور اس کا دل یہ کہے کہ ہاں میں دنیا کو چھوڑ سکتا ہوں۔مگر اس خدا کو نہیں چھوڑ سکتا۔ایسا شخص اگر گناہ اور لغزش میں بھی مبتلا ہو جائے تو یہ اس کی عبودیت کا انکار نہیں ہے لیکن وہ امتحان پھر بھی پیش آئیں گے جہاں عبودیت کا انکار بھی ہو سکتا ہے، اس کے عبد ہونے کا انکار بھی روشن ہوسکتا ہے۔ایک غلام جس کے اوپر مالک کو یقین ہو کہ ہے تو میرا۔اگر غلطیاں بھی کرتا ہے تو مسکرا کر بعض دفعہ معمولی سرزنش کے ساتھ بھی اس کو معاف کر دیتا ہے لیکن وہ جانتا ہے کہ ہر دفعہ جب