خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 85 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 85

خطبات طاہر جلد 14 85 خطبہ جمعہ 3 فروری 1995ء کی مثال دیتا ہے فرماتا ہے کہ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ اضطراب حقیقی ہے اور اس وقت بعض لوگ یہ یقین کر لیتے ہیں کہ خدا کے سوا اب کوئی نہیں جو بچانے والا ہو۔جب یہ اخلاص، عارضی اخلاص بھی پیدا ہو جائے تب بھی ہم ان کی دعاؤں کو سن لیتے ہیں لیکن جانتے ہیں کہ یہ لوگ جو کشتیوں میں سوار طوفان کی لہروں کے رحم و کرم پر ہیں کسی لمحہ بھی وہ طوفان ان کو غرق کر سکتے ہیں۔جب مخلصین ہو کر مجھے پکارتے ہیں اضطراب کے ساتھ ، تو میں جواب دیتا ہوں ان کے طوفان کو امن کی حالت میں بدل دیتا ہوں۔وہ خیر و عافیت کے ساتھ اپنے اپنے کناروں پر پہنچتے ہیں مگر اپنے اضطراب کو بھی چھوڑ جاتے ہیں اپنی دعاؤں کو ، اپنے خدا کو بھی پیچھے سمندروں میں چھوڑ جاتے ہیں اور پھر شرک کی طرف اور اپنی پرانی بدیوں کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔پس ایسے لوگ جن کا اضطراب اللہ کے لئے نہ ہو یا حقیقت میں اللہ سے تعلق کے لئے نہ ہو بلکہ اپنی خود غرضی کے لئے ہو ان کا اضطراب بعض دفعہ کبھی کبھی ان کو ان کا مد عادل بھی دیتا ہے مگر مدعا جو ہے وہ عارضی اور ایک مادی اور دنیاوی مدعا ہوتا ہے اس سے آگے وہ نہیں بڑھتے اس لئے وہ دعائیں سنی بھی جائیں تو اللہ کی طرف نہیں لوٹتے۔ایسے طالب علموں کو آپ سوچ لیجئے تصور کریں آپ کے طالب علمی کے زمانے میں ایسے بہت سے طلباء ہوں گے جو ادھر امتحان آیا ادھر مسجدوں میں پہنچنے شروع ہو گئے۔ادھر امتحان ختم ادھر مسجدوں سے چھٹی۔دعاؤں کے خطوط شروع ہوئے ، جب امتحان قریب آگیا۔امتحان گزرا تو اس مصیبت سے نجات۔یہ جو تعلق ہیں یہ وہ اضطراب نہیں جس کے متعلق خدا وعدہ کرتا ہے کہ میں ضرور سنوں گا کیونکہ اس کی تشریح خود بعد میں پھر بیان فرما دی، فرمایا کہ جب میں تمہیں پکارتا ہوں تم بھی تو جواب دیا کرو تم بھی تو میرے لئے موجود ہو۔اب ایک طرف وہ خدا ہے جو بعض لوگوں کے تصور میں وہ الہ دین کے چراغ کا جن ہے جب جی چاہا بلا لیا جب چاہا اس کو واپس کا لعدم کر دیا گویا وہ ہے ہی نہیں۔یہ مراد ہر گز نہیں ہے کہ جب اضطراب ہو تو میں حاضر ہو جاؤں گا۔وہ اللہ تعالیٰ ہے مالک ہے کوئی تمہارا غلام جن تو نہیں جو کسی لیمپ میں قید ہوا ہو۔پس دعا وہ چراغ نہیں ہے جو الہ دین کا چراغ کہلاتا ہے۔دعا وہ چراغ ہے جو دلوں میں نور بن کے روشن ہوتی ہے اور مستقل رہتی ہے پھر کبھی نہیں چھوڑتی اور اس مثال کو قرآن کریم نے نور کے لفظ سے بیان کرتے ہوئے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا صلى الله وہ نور بیان فرمایا جو خود بھی روشن جس پر خدا کا شعلہ عشق نازل ہوا ہے اور اسے منور کر گیا ہے اور