خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 901 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 901

خطبات طاہر جلد 14 901 خطبه جمعه یکم دسمبر 1995ء بڑھتے ان دو صورتوں کو نور کی دو طرفوں کے بیان سے ظاہر فرمایا گیا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کا قدم اب نیکی کی بجائے کسی اور طرف نہیں اٹھ سکتا اور ان کی ہمیشہ پیش رفت رہتی ہے، ہمیشہ آگے چلے جاتے ہیں ۔ یہ قافلہ ہے اور یہ سفر ہوگا جنتوں کے اندر ۔ اب یہ جو تصور ہے کہ جنت میں ایک دفعہ پہنچ گئے تو پھر رات دن کھایا پیا اور آرام فرمایا۔ کاؤچوں پہ بیٹھے ہوئے ہیں اور وہی منتہی ہے اس تصور کو یہ آیت کلیہ جھٹلا رہی ہے۔ میں نے پہلے بھی بیان کیا ہے کہ جنت بھی لا متناہی ترقیات کی جگہ ہے جہاں ٹھہراؤ نہیں ہے کیونکہ ٹھہراؤ موت کا نام بھی ہے اور تنزل کا آغاز بھی ہے اور جنت کی زندگی میں نہ موت ہے نہ تنزل ہے۔ اس لئے لازم ہے کہ جنت میں ہر حال میں انسان آگے بڑھے اور دوسرا اس لئے بھی لازم ہے کہ جب تک تبدیلی نہ ہو اس وقت تک انسان لطف کو قائم نہیں رکھ سکتا۔ لطف آبھی رہا ہو اور انسان ایک جگہ ٹھہر جائے تو وہیں وہ لطف جو ہے آہستہ آہستہ بدمزگی اور اکتاہٹ میں تبدیل ہو جاتا ہے جسے Boredom کہا جاتا ہے۔ بور ہو جاتا ہے انسان ۔ تو حرکت میں اور تبدیلی میں وہ لذت ہے جو دائم رہتی ہے اور ہمیشہ آگے بڑھتی رہتی ہے۔ پس ایسی جنت جہاں ٹھہر جانا ہے وہ جنت تو کسی تمنا کے لائق نہیں ہے۔ فرمایا وہ کیا کہیں گے نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا اے ہمارے رب ہمارے نوروں کو کامل کر دے۔ پس کمال نور ایک ایسی چیز ہے جس کا کوئی انتہا نہیں ہے کیونکہ نور کا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے عطا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھنے کی صلاحیت ہی کا نام نور رکھا گیا ہے اور چونکہ مقصود بے انتہاء ہے ، اس کا کوئی منتہاء نہیں ، اس لئے لازماً یہ نور آگے بڑھے گا تو قدم خدا کی طرف بڑھیں گے۔ پس وہ جو پہلا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ ان کے آگے بھی نور بھاگ رہا ہوگا ور ان کے دائیں طرف بھی اس منزل کے حصول کی خاطر جولا متناہی سفر ہے لیکن ہمیشہ آگے بڑھنے والا ہے، ہمیشہ مزید نیکیاں کمانے والا ہے، اس کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے یہ دعا سکھا دی گئی یا بتایا گیا کہ مومن جنت رسول اللہ ﷺ کی معیت میں ہمیشہ یہ دعا کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھیں گے رَبَّنَا اتْمِمْ میں محمد لَنَا نُورَنَا اے ہمارے رب ہمارے نور کو کامل فرمادے وَ اغْفِرْ لَنَا اور ہمیں بخش دے إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ تو ہر چیز پر قادر ہے۔ صلى الله