خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 899 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 899

خطبات طاہر جلد 14 899 خطبہ جمعہ یکم دسمبر 1995ء ہوں۔مومنوں کو تو سب کو یہ عظیم مقام حاصل نہیں ہے مگر حکم یہ ہے کہ محمد رسول اللہ کے کے ساتھ ہو۔لازم کر دیا گیا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرو اور اس جیسا بننے کی کوشش کرو۔اس لئے تَوْبَةً نَصُوحًا سے مراد یہ ہے کہ تم بھی بے داغ ہونے کی کوشش کرو کیونکہ جو تمہاری آخری منزل ہے وہ اللہ کے نور کی منزل ہے اور نور کی منزل کی راہ میں تمہاری کثافتیں حائل ہوں گی اس لئے سفر کا آغا ز ایسی تو بہ سے ہوگا جو خدا کے لئے خالص ہو اور تمہیں پاک اور صاف کرنے والی اور پوری طرح دھو دینے والی ہولیکن اس کے باوجود خدا کے فضل کے سوا اور اس کی خاص قدرت کے سوا تمہاری برائیاں دور نہیں ہوسکتیں اور یہ اس لئے بھی اہم بات ہے کہ بسا اوقات انسان حصول نور سے پہلے اپنی برائیاں نہیں دیکھ سکتا اور یہ عجیب مشکل ہے کہ جب تک نورالہی اپنی بصارت عطا نہ کرے اس وقت تک انسان اپنے نقص بھی نہیں دیکھ سکتا اور جب تک وہ نقص دور نہ ہوں نو ر الہی عطا نہیں ہوسکتا۔نور الہی کی منزل کی طرف بڑھتے ہوئے ہی تو نصیحت فرمائی گئی کہ پہلا قدم تَوْبَةً نَصُوحًا سے اٹھاؤ گے تو اس منزل کی طرف آجاؤ گے اور آخر پر نور کی عطا کا ذکر فرمایا گیا ہے لیکن اس سے پہلے یہ وعدہ کر دیا گیا کہ ہم جانتے ہیں کہ تمہارے اندر کمزوریاں ہیں اور ان کمزوریاں ہوتے ہوئے تمہیں خودا اپنی شناخت بھی نہیں ہوسکتی۔پس اپنی ذات کی معرفت کے لئے جو نور چاہئے اگر وہ بھی حاصل نہ ہو تو پھر کیسے انسان اپنی کمزوریوں کو دور فرما سکتا ہے۔اس بظاہر عقده لا ينحل کا حل یہ فرمایا کہ تم یہ کرو ہم یہ کریں گے۔تم نیت صاف کر لو اور پورے خلوص کے ساتھ جس میں دنیا کا کوئی میل داخل نہ ہو نیتوں میں کوئی فتور نہ ہو یہ ارادہ کر لو کہ میں نے اپنے آپ کو ہر داغ سے پاک کرنا ہے اللہ کیا فرمائے گا۔عَلَى رَبُّكُمْ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيَاتِكُمْ پھر تم دیکھو گے دور کی بات نہیں عسی کے معنی قریب ہے یعنی تم جس چیز کو دور دیکھ رہے ہو کہ تم ہر قسم کے گند سے پاک ہو جاؤ اللہ کے نزدیک وہ اتنی آسان بات ہے کہ ہر گز بعید نہیں۔اس کے لئے کہ تم سے تمہاری برائیاں دور فرمادے اور یہ وہ شرائط ہیں جن کے پورا ہونے کے بعد وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّتِ یہ حالت جب تک حاصل نہ ہو جائے ، یہ مقام جب تک حاصل نہ ہو جائے انسان ان جنتوں میں داخل ہونے کا اہل نہیں ہوتا جو جنتیں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی معیت سے تعلق رکھتی ہیں چونکہ یہاں مضمون ہر جنت کا نہیں بلکہ ایسی جنتیں ہیں جن کا آنحضرت مے کی معیت کا ان کے ساتھ رہنے سے تعلق ہے۔