خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 893
خطبات طاہر جلد 14 893 خطبہ جمعہ 24 نومبر 1995ء خدا کی ودیعت ہے اس امانت میں ایک ذرہ بھی فرق نہ آنے دے تو پھر آنحضرت ﷺ کے متعلق یہ فرمانا کہ وہ تو از خود ہی بھڑک اٹھنے کے لئے تیار بیٹھا تھا مراد یہ ہے کہ جو کچھ پایا تھا خدا سے پایا تھا مگر اس کی حفاظت کی تھی ، اس اعتدال کو قائم رکھا تھا۔اس توازن پر ہمیشہ قائم رہا اور یہی تو وحی کا مقصد تھا کہ تمہیں تو ازن عطا کرے جس توازن کو تم کھو بیٹھے تمہیں دوبارہ نصیب ہو وحی کی بدولت آسمان کا نور تمہیں پھر ان نوری اقدار پر قائم کر دے جن اقدار سے تمہارے سفر کا آغاز ہوا تھا تا کہ تمہارا انجام بھی اسی پر واقع ہو۔پس وہ رسول ﷺ جس نے آغاز ہی سے اپنی ساری زندگی اس اعتدال سے سرمو بھی فرق نہ کیا ہو اس کے متعلق یہ فقرہ کیسا خوبصورت اور کیسا برمحل ہے ایک ادنی بھی مبالغہ نہیں کہ یہ نور تو اپنی ذات میں بھڑک اٹھنے پر تیار بیٹھا تھا یعنی کامل اعتدال پر تھا اور تھا ہی نور۔پھر اس پر جب شعلہ نور اترا ہے تو نُورٌ عَلى نُورِ بن گیا اور اس کمال کا نور پھوٹا ہے کہ سارے عالم کو روشن کر دیا۔اس درجے کی اس میں شدت پیدا ہوئی ہے کہ خدا نے اسے سِرَاجًا منيرا (الاحزاب : 47) کے طور پر تمہارے سامنے پیش کیا مگر اس نور کی طرف سفر کیسے ہوگا۔محض تعریفوں کے ذریعے نہیں بلکہ ان صفات حسنہ کو اپنانے کی کوشش کے ذریعے ، وہاں پہنچ کر تعریف کی حد ختم ہو جاتی ہے۔پھر تعریف کی سچائی کی حد شروع ہوتی ہے۔ایک انسان کسی کو دیکھ کر کہہ سکتا ہے واہ واہ کیسا اچھا ہے، کیسا مضبوط ہے، کیسا طاقتور ہے لیکن اگر وہ ہونٹوں کی تعریف ہے تو ویسا بنے کی کوشش نہیں کرتا کیونکہ اس میں محنت درکار ہے۔بہت مشقت کا بعض دفعہ سامنا ہوتا ہے۔ایک کرکٹر بننے کے لئے ہی آپ دیکھیں پوری زندگی بعض لوگوں کو وقف کرنا پڑتی ہے۔وہ بچے جو تعریف کرتے ہیں دل کی گہرائی سے ان کو میں نے دیکھا ہے کرکٹ کی لوگ جاتی ہے۔بعض بچے مجھے دعاؤں کے لئے لکھتے ہیں کہ میرے لئے دعا کریں میں ایسا کرکٹر بنوں کہ بس دنیا میں کمال ہو جائے۔وہ بچپن سے ہی تصویریں بھی کرکٹ کی بناتے ہیں، دیکھتے بھی ہیں ، نام بھی ان لوگوں کے اکٹھے کرتے ہیں جو کرکٹ میں اچھے ہوا کرتے تھے۔کتابیں وہ پڑھا کرتے ہیں جن میں کرکٹ کے ریکارڈ ہوتے ہیں۔اب چھوٹی سی معمولی سی کھیل ہے لیکن جو سچی تعریف کرنے والا ہے وہ صرف زبان سے عاشق نہیں ہوتا ، دل سے اور عمل سے عاشق ہو جاتا ہے۔