خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 892
خطبات طاہر جلد 14 892 خطبہ جمعہ 24 نومبر 1995ء تعلیم انسان قبول کرنے کے اہل ہی نہ رہتا۔ اس لئے بے اعتدالیاں ہوتی ہیں تو بعد میں لوگ بنادیتے ہیں ۔ فطرت کو آغاز میں اعتدال ہی عطا ہوا ۔ ما ہوا ہے۔ اسی لئے آنحضرت یہ فرما ۔ ت علوس رماتے ہیں۔ کل مولود صلى الله يولد على الفطرة فابواه يهودانه اور ینصرانہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ فابواه یهودانه او ينصرانه پر اس کے ماں باپ ہیں جو ان میں سے کسی کو یہودی بنا دیتے ہیں، کسی کو نصرانی بنا دیتے ہیں یعنی یہ جو تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں یہ انسان کی پیدا کردہ تبدیلیاں ہیں ۔ اب صرف یھودانہ اور ”ینصرانہ“ کا ذکر فرمایا اور مسلمان بنا دیتے ہیں کا کوئی ذکر ہی کوئی نہیں ۔ اس میں کیا حکمت ہے؟ کسی اور مذہب کا بھی ذکر نہیں فرمایا۔ پہلی حکمت تو یہ ہے کہ دو انتہاؤں کی اس سے بہتر مثال نہیں ہو سکتی کہ یا یہودی بنا دیتے ہیں یا عیسائی بنا دیتے ہیں ۔ فطرت وسط میں واقع ہوئی ہے۔ اس کو ایک طرف کھینچ لو تو یہودیوں کی طرح تشدد اور سختی اور انتقام اور غیظ و غضب پر زور ہو جائے گا اور وہاں اسی مرکز سے ہٹا کر دوسری طرف کھینچ لوتو عیسائیت کی نرمی اور عفو اور درگزر یہاں تک کہ ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسری گال پیش کر دو کی تعلیم شروع ہو جاتی ہے۔ تو درمیان میں واقع ہے تو دونوں کو کھینچا گیا ہے نا۔ اس لئے اس کلام محمد مصطفی ﷺ میں بھی ایک حیرت انگیز توازن اور اعتدال واقع ہے۔ پھر یہ کہ فطرت کو تو اسلام فرمایا گیا ہے۔ قرآن کریم میں بھی اور رسول کریم ﷺ کی طرف سے بھی ۔ تو ماں باپ تو مسلمان نہیں بناتے خدا نے مسلمان بنا کے بھیجا ہے۔اس لئے اس کا مسلمان کا بننا ایک فطری بات ہے۔ اس کے ساتھ تو وہ پیدا ہوا تھا۔ اس لئے اسلام کی ہے۔اس تعریف فطرت سے باندھی گئی ہے اور وہی تعلیم ہے جو در حقیقت انسان کی فطرت سے وابستہ ہونے کی وجہ سے غیر مبدل ہو جاتی ہے۔ میں اگر فطرت انسانی سے اسلام کی تعلیم کامل طور پر نہ جوڑی جاتی تو زمانے کے بدلنے سے اس تعلیم کا بدلنا لازم ہو جاتا ۔ اگر یہ اعتدال اور وسط پر واقع نہ ہوتی جس کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام صلى الله نے ذکر فرمایا اور آنحضرت ﷺ اس سے بہت پہلے اس کو مثال دے کر ظاہر فرما چکے ہیں تو پھر یہ غیر زمانی تحریک نہیں ہو سکتی تھی کیونکہ جب اعتدال پر چیز نہ رہے تو اسے استقامت نہیں رہتی اور یہ مضمون میں پہلے بیان کر چکا ہوں ۔ تو اسلام کا توسط پر واقع ہونا ایک طبعی امر ہے۔ اگر انسان، ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا کیا جائے تولاز ما اسلام پر پیدا ہوا ہے اور اگر کوئی فطرت کو قائم رکھے، اگر جو