خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 886
خطبات طاہر جلد 14 886 خطبہ جمعہ 24 نومبر 1995ء یہ جو پہلی تعریف تھی اس معانی کے مطابق ہوگی نہ کہ عامتہ الناس کی سوچ کے مطابق ۔ اب یہ مضمون الله کچھ مشکل ہو جاتا ہے لیکن لازم ہے کہ اس کو سمجھا جائے ۔ ہر بندے کا نہ صرف یہ کہ حق ہے بلکہ فرض ہے کہ اس مضمون کو سمجھے کیونکہ اس کا نور سے اتصال ہونا اس کے فرائض دینیہ میں داخل فرما دیا گیا ہے، اس کی پیدائش کی غرض وغایت میں داخل فرما دیا گیا ہے۔ اس لئے دقت خواہ زیادہ ہی ہو آپ کو یہ بات لازما سمجھانی ہوگی ۔ آنحضرت ﷺ کو وسیلہ کہہ کر ، وسیلہ مان کر ، وسیلہ یقین کرتے ہوئے ہم وہیں کھڑے رہ جائیں تو آپ وسیلہ نہیں بن سکتے ۔ وہ وسیلہ کسی صراط مستقیم کا نام ہے ۔ اس : ۔ اس میں کتنی را ہیں چل رہی ہیں ۔ بعض چھوٹی راہیں صراط ہوتی ہیں جن میں دو Lanes چلتی ہیں بعض میں تین Lanes کی سڑک بن جاتی ہے ۔ بعض دو رویہ ہو جاتی ہیں ۔ چھ چھ سات سات Lanes کی دو رویہ سڑکیں بھی دوڑ تی ہیں مگر محمدرسول اللہ ﷺ کی جوصراط مستقیم ہے اس میں وہ ساری سڑکیں ہیں جن کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آگے چل کر خلق کی تعریف میں بیان فرمائیں گے اور ہر سڑک پر قدم رکھنے کے لئے ، ہر سڑک پر رسول اللہ ﷺ کے قدموں کی پیروی کے لئے ایک مناسب صفت ہمیں عطا ہوئی ہے۔ اس لئے پورا قافلہ ہے جو آگے بڑھے گا۔ تمام انسانی صفات وہی ہیں جو آنحضرت ﷺ کو عطا ہوئی تھیں صرف درجۂ کمال کا فرق ہے اور ان صفات کو جس درجے پر بھی وہ واقع ہیں روشن کرنے کے لئے بے حد گنجائش موجود ہے کیونکہ بہت سی ایسی صفات ہیں جو ہمارے اندر موجود ہیں جن کی ہم نے کبھی پرورش ہی نہیں کی ۔ عدم استعمال کی وجہ سے مر جاتی ہیں ۔ وہ اعضاء جو حیوانوں کو ملے ان میں سے کئی اعضاء ایسے ہیں جن کا استعمال جب انسان کی سطح تک پہنچتے پہنچتے زندگی نے چھوڑ دیا تو وہ اعضاء سکڑ کر بالکل معمولی سے رہ گئے ۔ ان کے نشان باقی ہیں ۔ ریڑھ کی ہدی کی جود مچی ہے وہ جگہ ہے جہاں دم لگی ہوئی تھی اور لاکھوں سال سے انسان کو دم کی ضرورت پیش نہیں آئی اس لئے رفتہ رفتہ وہ دمچی ایک چھوٹی سی ہڈی کے نشان کے طور پر ، ایک یادگار کے طور پر رہ گئی۔ تو بسا اوقات انسان اپنی صلاحیتوں کو اپنی ریڑھ کی ہڈی کی دمچی بنا دیتا ہے، استعمال ہی نہیں کرتا ، ان کی نشو و نما ہی نہیں ہوتی وہ بڑے پڑے سوکھ جاتی ہیں ۔ ٹانگیں سوکھ جاتی ہیں اگر ان کو استعمال نہ کریں۔ ایک بچے کو گود میں اٹھائے پھریں وہ لولی لنگڑا ہو جائے گا۔ اس کی ربڑ کی سی ٹانگیں لٹکی رہیں گی۔ کبھی بھی وہ ان کو استعمال نہیں کر سکتا۔ مگر رہتی ہیں مگر جب حد سے زیادہ تغافل ہو جائے اور لمبا صلى