خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 84 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 84

خطبات طاہر جلد 14 84 خطبہ جمعہ 3 فروری 1995ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو یہ فرمایا: خیلے سب جاتے رہے اک حضرت تواب ہے (درشتین: 68) یہ مجھے یاد نہیں کہ الہام ہے یا آپ کا اپنا مصرعہ ہے لیکن کلام الہامی معلوم ہوتا ہے۔ایسا وقت جب کوئی حیلہ باقی نہ رہے اس وقت اضطراب بھی پیدا ہوتا ہے اور دعا پر یقین بھی پیدا ہوتا ہے کیونکہ جب حیلے نہ رہیں تو بے انتہا بے چینی اور گھبراہٹ پیدا ہوتی ہے اور اضطراب اسی کا نام ہے۔اس وقت جو دعا کی جاتی ہے اگر وہ مقبول ہو تو انسان کا دل کامل یقین سے بھر جاتا ہے کہ ایک سننے والی ہستی ہے جس نے میری بات کو سناور نہ اور کوئی ذریعہ نہیں تھا تو اللہ سے تعلق کا ایک پل ہے۔میں ابھی پل کی بات کر رہا تھا کہ جو ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک ممتد ہوتا ہے یہ رمضان سے رمضان کو ملانا تو کوئی مقصد نہیں مگر یہ وہ پل ہے جو خدا تک پہنچاتا ہے، یہی اصل مقصد ہے۔یہ خدا تک پہنچنے کا جو پل ہے یہ دعا ہے جو آسمان تک پہنچتی ہے، اس کا جواب آتا ہے انسان یقین سے بھر جاتا ہے کہ میرا ایک خدا ہے لیکن اضطراب کے ساتھ اگر یقین نہ ہو تو وہ دعابے کا ر ہو جاتی ہے۔بعض دفعہ اضطراب ہے لیکن یقین نہیں ہے اور اضطراب ہے مگر محبت نہیں ہے اور خدا کا گہرا تصور اور خدا کی قدر دل میں نہیں ہے۔بعض لوگ ایسی دعائیں بھی کرتے ہیں ان کو میں سمجھانا چاہتا ہوں ، بات کھول کر اچھی طرح ان پر یہ بات روشن کر دینا چاہتا ہوں کہ آپ کا اضطراب مسلم تسلیم ہے کہ آپ اضطراب کی حالت میں خدا کو پکارتے ہیں ایک لڑکا کہتا ہے اے خدا اتنی دیر ہوگئی میرے پرچے خراب ہو رہے ہیں اس دفعہ مجھے پاس کر دے۔ایک انسان ہے جو یہ کہتا ہے کہ اے خدا روزی کا کوئی ذریعہ نہیں ، فاقے مرگیا، بار بار تیرے حضور ماتھا رگڑتا ہوں، کوئی جواب نہیں آتا۔تو کیسا خدا ہے ایک طرف کہتا ہے إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيْب اے محمد وہ تجھ سے میرے بندے سوال کرتے ہیں کہ میں کہاں ہوں اِنِّي قَرِيبٌ میں پاس ہوں تو وہ کون سا خدا تھا جس نے یہ اعلان کیا ہماری دعا ئیں تو نہیں سنی جار ہیں۔یہ جو اضطراب ہے ایک بیٹے کا اضطراب ہے اس کا تجزیہ کر کے اسے حقیقی اضطراب سے الگ کرنا ہوگا جو اضطراب خدا سے ملانے والا ہے۔یہ وہ دعائیں ہیں جو شدید اضطراب میں اگر مقبول ہو بھی جائیں تو خدا سے نہیں ملاتیں بلکہ نفس پرستی کی دعائیں ہیں۔اپنے نفس سے ملاتی ہیں اور انسان واپس اپنے نفس کی طرف لوٹ جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ اس