خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 869 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 869

خطبات طاہر جلد 14 869 خطبہ جمعہ 17 نومبر 1995ء وحشی قبائل سے تعلق رکھتی ہوں ، وہ بھی سکھا دیتی ہیں بلکہ جانور مائیں بھی سکھاتی ہیں اپنے بچوں کو۔کیوں اس کا فطری تعلیم سے تعلق ہے تو میں نے جو زبانوں کا مضمون شروع کیا تھا اس نقطہ نگاہ سے کیا تھا کہ خدا نے جو مضمون ماؤں کے ذریعے ہمیں سکھایا ہے ہم اسے اپنا لیں اور مائیں بھی پھر منہ بھی ٹیڑھے کرتی ہیں ان کو ہنسانے کے لئے عجیب عجیب شکلیں بھی بناتی ہیں تو اگر کوئی سمجھتا ہے وقار کے خلاف ہے مجھے کوئی بھی پرواہ نہیں۔میرا وقار ہے ہی کچھ نہیں۔میرا وقار اگر ہے تو سچا ہونے میں ہے۔جس حد تک میں سچارہ سکتا ہوں اسی حد تک میر اوقار ہے۔اس سے آگے نہیں ہے اور یہ مجبوریاں ہیں اور اس سے فوائد بھی ہو رہے ہیں مگر میں کوئی دفاع نہیں کر رہا۔اس مضمون سے میرا ذہن اس طرف چلا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نور کے لئے محمد رسول اللہ ﷺ کو چنا اور دوسری تعلیمات سے بے بہرہ رکھا اس لئے کہ وہ تمام تر تعلیمات خدا نے خود دینی تھیں اور یہ واقعہ جہاں تک میری نظر ہے کسی اور نبی کے ساتھ ظہور میں نہیں آیا۔اس لئے امی لقب ہونا آپ کا ، آپ کی منفر وصفت ہے اور اس طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس چھوٹے سے فقرے میں اشارہ فرمارہے ہیں کہ آپ ﷺ کا وجود مبارک جو شجرہ طیبہ کی اعلیٰ ترین مثال تھا سب سے اونچی مثال تھا، وہ محض اللہ کے پانی سے سیراب یافتہ ہوا۔کوئی دنیاوی علوم اس کی عقل کو چمکانے پر اثر انداز نہیں ہوئے۔تمام دنیاوی علوم سے بے بہرہ رہا۔یہاں تک کہ لکھنا پڑھنا بھی نہیں آیا اور خدا نے اسے سب دنیا کا معلم بنا دیا۔پس تعلیم دینا بھی خدا ہی عطا کرتا ہے اور تعلیم حاصل کرنا بھی اسی کو نصیب ہوتا ہے جس کی فطرت میں خدا نے تعلیم حاصل کرنے کی صلاحیت رکھ دی ہو۔پس کلیۂ انحصار اللہ کے فضلوں پر ہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں اب دیکھیں۔انہی اعتدالات کے مناسب حال ظہور میں آیا“ جوخدا نے صفات رکھ دی تھیں ان کے عین مطابق وحی نازل ہوئی ہے اور چونکہ صفات ایسی تھیں جو عالمی نوعیت کی تھیں اس لئے وہی عالمی ہو گئی اور دوسرے انبیاء اس کے مستحق ہی نہیں تھے کہ ان پر ویسی ہی وحی کی جاتی جیسے محمد رسول اللہ ﷺ پر فرمائی گئی۔اب اس کی تفصیل میں بعض انبیاء کے مزاج کے فرق آپ بیان فرما رہے ہیں۔فرماتے ہیں:۔۔۔جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مزاج میں جلال اور غضب