خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 82 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 82

خطبات طاہر جلد 14 88 82 خطبہ جمعہ 3 فروری 1995ء وہ جد و جہد ہے جس میں رمضان آپ کے لئے سراسر خیر و برکت ہے۔اگر یہ جد و جہد بالا رادہ شروع کریں اور یا درکھیں کہ آپ کے ارادے سے بات نہیں بنے گی جب تک دعا مانگتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے مدد نہ مانگیں اس وقت تک یہ جدو جہد کا میاب نہیں ہو سکتی مگر دعا کے لئے توجہ چاہئے۔دعا کے لئے ایک گہرا احساس چاہئے ورنہ ہونٹوں کی دعائیں تو کسی کام نہیں آیا کرتیں۔دل کی گہرائی سے اضطراب کے ساتھ اٹھنے والی دعائیں ہیں جو اللہ تعالی سنتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے بھی اس پر روشنی ڈالی اور قرآن کے مضامین کی مزید تفاصیل بیان فرمائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس مضمون پر بہت روشنی ڈالی اور کثرت سے اپنی عارفانہ تحریروں میں بتایا کہ دعا کیسے قبول ہوتی ہے، کیا باتیں ہیں جو قبولیت دعا کا تقاضا کرتی ہیں، پہلے وہ کرو پھر قبولیت دعا کی توقع رکھو۔اس میں سب سے اہم بات اضطراب ہے اب سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ لوگوں کو مضطرب کر دے۔وہ آنسو خدا کے کس کام کے جو آنکھوں سے بہہ رہے ہوں۔سیدھا سادہ منہ سے کسی نے کہ دیا اللہ میاں یہ دے دے تو دے کیوں نہیں دیتا۔بات یہ ہے کہ دعا ایک عام ذریعہ طلب نہیں ہے۔عام ذرائع طلب وہ ہیں جو دنیا میں خدا تعالیٰ نے قانون قدرت کے طور پر آپ کو مہیا کر رکھے ہیں اور بے شمار ہیں۔وہ قوانین ہیں جو ہر کھرے کھوٹے ، ہر نیک و بد کے لئے خدا کی رحمانیت اور رحمیت کے چشمے بہار ہے ہیں اور جو خدا کا فیض حاصل کرنا چاہے وہ ان ذرائع کو اختیار کر کے حاصل کر سکتا ہے۔پس دعا کے الگ نظام کی ضرورت کیا تھی اس پر آپ غور کریں گے تو پھر آپ کو سمجھ آئے گی کہ اضطراب کی کیا ضرورت ہے۔عام طور پر جب آپ کسی کام میں محنت کرتے ہیں ، شغف رکھتے ہیں ، اس کام سے گہرا دلی تعلق ہوتا ہے تو وہ کام زیادہ اچھا ہوتا ہے۔اگر سرسری طور پر کرتے ہیں تو اچھا نہیں ہوتا۔یہ قانون کس نے بنایا ہے۔اسی خدا نے جس نے دعا کا نظام بھی جاری فرمایا ہے۔ایک آدمی کسی مجلس میں بیٹھتا ہے ، سرسری طور پر دلچسپی لیتے ہوئے وہاں موجود رہتا ہے۔ایک آدمی جان و دل بیچ میں ڈال کر بیٹھتا ہے ان دونوں کے فوائد میں زمین و آسمان کا فرق ہے اور فائدے کے لئے گہری توجہ، انہماک اور سچا پیار ہونا ضروری ہے۔پس اگر دعا کسی اور قانون کے تابع بنائی جاتی تو اس خدا کی طرف سے نہ ہوتی جس خدا نے دنیا کا نظام بنایا ہے۔