خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 861
خطبات طاہر جلد 14 861 خطبہ جمعہ 17 نومبر 1995ء نُورٌ عَلَى نُورٍ کی لطیف تشریح رسول کریم کا وسیلہ ہونا اور مسیح موعود کا چاند ہونے کا مفہوم ( خطبہ جمعہ فرموده 17 نومبر 1995 بمقام بيت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: گزشتہ خطبے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے سے آیت کریمہ اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكُوةٍ فِيهَا مِصْبَاح (النور: 36) کی تغییر پیش ہورہی تھی جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمائی اور جس کو میں نے مزید وضاحت سے کھول کر جماعت کے سامنے رکھا۔یہ مضمون ابھی مکمل نہیں ہوا تھا کہ خطبے کا وقت ختم ہو گیا اور اس کے علاوہ بھی اور بہت سی باتیں خدا تعالیٰ کے اسم نور کے حوالے سے کرنے والی ہیں۔اس لئے خطبے میں جہاں میں نے مضمون کو چھوڑا تھا وہاں سے بات کو آگے بڑھاؤں گا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام شجرہ مبارکہ زیتون کی مثال کی تشریح فرمار ہے تھے اور اس موقع پر کچھ حصہ مضمون کا بیان کرنے کے بعد وقت ختم ہو گیا تھا۔حضرت اقدس فرماتے ہیں کہ جو زیتون کا تیل ہے جس سے وہ وحی کا مبارک چراغ روشن ہے وہ تیل کیا چیز ہے جو عبارت ہے وہ اگر تمام تر پڑھی جائے تو چونکہ مشکل عبارت ہے اور بہت سے سننے والے جوار دو کو اچھی طرح سمجھتے ہیں وہ بھی اس عبارت کو سمجھ نہیں سکیں گے۔پس بجائے اس کے کہ میں اس عبارت کو پڑھوں اس کے سر دست پہلے حصے کا مضمون بیان کرتا ہوں بعد میں پھر کچھ عبارتیں بھی پڑھوں گا ان کا مضمون