خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 858 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 858

خطبات طاہر جلد 14 858 خطبہ جمعہ 10 /نومبر 1995ء کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جیسے وحی کے ذریعے وہ چیز دیکھ رہا ہے جو دوسروں کو نظر نہیں آرہی۔یہ ایک بہت ہی اہم مسئلہ ہے جو آج کل سائنس کی دنیا میں زیر بحث ہے اور اکثر سائنس دان جو شروع میں اس کو رد کر دیا کرتے تھے اب اسے تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں خواہ ان کو سمجھ آئے یا نہ آئے۔امریکہ میں بھی اس پر بہت کام ہوا ہے، روس میں بھی بہت ہوا ہے۔یہاں کیمبرج یونیورسٹی میں بھی اس پر باقاعدہ کام ہو رہا ہے اور وہ مسئلہ یہ ہے کہ حواس خمسہ کے بغیر ایک چیز ایسی باتیں کیسے معلوم کر سکتی ہے جس کے درمیان اور اس کے معلوم کرنے والے کے درمیان کوئی ایسا رابطہ نہ ہو جو حواسِ خمسہ کے ذریعے اسے خبر دے۔مثلاً روشنی کے بغیر کسی نظارے کو دیکھنا یہ سائنس کے لحاظ سے ایک نہایت غیر معقول اور نا قابل قبول بات ہے مگر آنکھیں بند کر کے آپ ایک ایسا نظارہ دیکھ لیتے ہیں جو چین میں واقع ہورہا ہے اور چین کے واقعہ کی اگر تحقیق کی جائے اور ثابت ہو جائے کہ عین اس لمحہ چین میں وہ واقعہ ہو رہا تھا تو ایک بڑی مشکل میں انسان مبتلا ہو جائے گا لیکن انسان کو جو اللہ تعالیٰ نے نور کی صلاحیت بخشی ہوئی ہے نور کے رابطے کی صلاحیت بخشی ہوئی ہے وہ اس تیل کی لطافت کو چاہتی ہے جو مثال کے طور پر شجرہ مبارکہ کا تیل محمد رسول اللہ اللہ کی طرف منسوب فرمایا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ وحی کو قبول کرنے کے لئے پہلے یہ تیل صاف اور شفاف ہونا چاہئے کیونکہ جو بھڑکتا ہے وحی سے وہ تیل بھڑکتا ہے اگر نہ ہو تو وحی سے کچھ بھی نہیں بھڑ کے گا۔پہاڑ پر جلوہ ہو تو پہاڑ ریزہ ریزہ تو ہو جائے گا اسے وحی کا شعور کچھ نصیب نہیں ہوگا۔پس وحی کے شعور کے لئے ، اس سے روشنی پانے کے لئے اور ایک نئی تخلیق بن کر ابھرنے کے لئے ایک بنیادی فطرتی تیل کی ضرورت ہے۔جس کے لئے شفاف ہونا شرط ہے جتنا شفاف ہو اتنا ہی اس کے جلد تر بھڑک اٹھنے کا امکان موجود ہے اور روشن تر ہو جانے کا رستہ کھلتا ہے ورنہ نہیں۔حضرت صلى الله ،، مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یہ کیا چیز تھی ، روغن کیا تھا عقل لطیف نورانی محمد ہے۔عقلِ لطیف تو سمجھ آگئی جو انسان کی عام عقل روشن ہولیکن نورانی عقل سے مراد وہ چھٹی حس ہے جو ہر خاصہ سے تعلق رکھتی ہے جس کو حواسِ خمسہ کہا جاتا ہے ان میں سے ہر ایک حس میں ایک آخری مقام ہے لطافت کی انتہا کا اسے نورانی مقام کہتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمار ہے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے حواس خمسہ تو بہت لطیف تھے لیکن اس کے علاوہ نورانی بھی تھے۔وہ اس حد