خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 856 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 856

خطبات طاہر جلد 14 856 خطبہ جمعہ 10 /نومبر 1995ء آپ کی ان صفات سے تعلق رکھتا ہے جو عالمی نوعیت کے ہیں جن صفات کی بنا پر آپ ہی ہیں جو اس بات کے حق دار تھے کہ کل عالم کے لئے خدا کے نور کا نمونہ بن کر اتریں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں "۔۔۔اور احسن تقویم پر مخلوق ہے۔۔۔66 أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ (اتین : 5) کی ایک عظیم الشان تعریف بھی یہ آپ نے فرما دی۔جو سورہ التین کی ایک آیت میں محاورہ ملتا ہے لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ ہم نے انسان کو احسن تقویم میں پیدا کیا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی اس تفسیر کی روشنی میں کہ تمام صفات کو معتدل بنادیا ہے۔ہم نے انسان کو اس حال پر پیدا کیا ہے کہ کسی جانور کی طرح کوئی ایک ہی حد سے بڑھی ہوئی صفت اکیلی اس میں نہیں پائی جاتی ،اس میں شیر کی طرح بھرنے کی بھی استطاعت ہے اور بھیڑ کی طرح جھک جانے اور عاجزی اختیار کرنے کی بھی صفات ہیں۔غرضیکہ ہر قسم کی صفات جو تمام دنیا کے جانوروں کو دی گئی ہیں ان کو برابر کر کے ، ان میں عدل پیدا کر کے ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے۔اور ارتقاء کے ایک لمبے دور کی طرف اشارہ ہے جو دراصل تعدیل کا دور ہے اس دور کی تکمیل پر پھر انسان کا پھل لگتا ہے۔اس سے پہلے دوسرے جاندار تو ہیں مگر وہ تعدیل سے کچھ نہ کچھ فائدہ اٹھا چکے ہیں، اس عدل کے نظام کی مکمل تصویر نہ بن سکے۔تو تمام انسان سے نیچے کی حالتیں احسن تقویم کا پھل تو ہیں مگر پہلی منزلوں کے پھل ہیں ، آخری منزل نہیں۔انسان اس کی آخری منزل ہے اور انسان کی آخری منزل جس نے ایک وجود میں احسن تقویم کا تمام تر جلوہ پوری شان سے دکھایا وہ حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ کی ذات جامع برکات ہے۔فرماتے ہیں:۔۔۔اس شجرہ ء مبارکہ کے روغن سے جو چراغ وحی روشن کیا گیا ہے سور وغن سے مراد عقل لطیف نورانی محمدی مع جمیع اخلاق فطرتیہ ہے جو اس عقل کامل کے چشمہ صافی سے پروردہ ہیں۔۔۔“ ( براہین احمدیہ حصہ سوم۔روحانی خزائن جلد اول صفحہ 193-191 - حاشیہ ) اب یہ جو مضمون ہے یہ بہت اور بھی زیادہ باریک ہوتا جاتا ہے اور حضرت مسیح موعود