خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 853
خطبات طاہر جلد 14 853 خطبہ جمعہ 10 نومبر 1995ء دے یہ وہ نور کی مثال ہے جو آنحضرت ﷺ کے حوالے سے پیش کی گئی ہے۔ پھر فرماتے ہیں: الله اور شیشہ ایسا صاف کہ گویا ان ستاروں میں سے ایک عظیم النور ستارہ ہے جو کہ آسمان پر بڑی آب و تاب کے ساتھ چمکتے ہوئے نکلتے ہیں جن کو کو کب دری کہتے ہیں ۔۔۔“ 66 یعنی دنیا کی بات کرتے ہوئے گوكَبٌ دُرِّيٌّ (النور:36) کہہ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو دنیا سے بلند کر دیا ہے کہ سطح سے بالا ستاروں کے جھرمٹ میں داخل فرمایا ہے اور اس ستارے کی مثال دی ہے جو سب سے زیادہ روشن ہے اور وہ بھی اللہ ہی کے نور سے چمکتا ہے تو اور ہی ارضی ہوتے ہوئے سماوی ہو جانا یہ اس دل کا ایک خاصہ تھا جسے گوكَبٌ دُرِّی نے ظاہر فرمادیا۔ ۔۔۔ یعنی حضرت خاتم الانبیاء کا دل ایسا صاف کہ کو کب دری کی طرح نہایت منور اور درخشندہ جس کی اندرونی روشنی اس کے بیرونی قالب پر پانی کی طرح بہتی ہوئی نظر آتی ہے وہ چراغ زیتون کے شجرہ مبارکہ سے یعنی زیتون کے روغن سے روشن کیا گیا ہے۔۔۔“ اب یہ بھی ایک مسئلہ ہے جس پر لوگ غور کرتے ہیں پھر ہار کے چھوڑ دیتے ہیں کہ زیتون کے روغن سے کیا مراد ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اللہ نے جو انکشاف فرمایا وہ یہ ہے ۔۔۔ شجرہ مبارکہ زیتون سے مراد وجود مبارک محمدی ہے کہ جو بوجہ وو نہایت جامعیت و کمال انواع و اقسام کی برکتوں کا مجموعہ ہے جس کا فیض کسی جهت و مکان و زمان سے مخصوص نہیں بلکہ تمام لوگوں کے لئے عام علی سبیل الدوام ہے اور ہمیشہ جاری ہے کبھی منقطع نہیں ہوگا ۔۔۔“۔ یہ فرمانا اس غرض سے ہے کہ جتنے بھی خدا تعالیٰ نے شجر بنائے ہیں انسان کے فائدے کے لئے ، آپ فرماتے ہیں کہ زیتون کا شجر آنحضرت ﷺ کی صفات کی مثال بننے کا سب سے زیادہ حق رکھتا ہے کیونکہ یہ وہ شجر ہے جو شرق و غرب میں برابر پایا جاتا ہے اور جس کے اندر سے نہایت ہی صافی تیل نکلتا ہے۔ ایسا صاف تیل کسی اور درخت کے پھل میں سے نہیں نکلتا جیسا صاف اور پاکیزہ اور مفید تیل زیتون کے درخت سے نکلتا ہے۔