خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 844 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 844

خطبات طاہر جلد 14 844 خطبہ جمعہ 10 نومبر 1995ء وجود بخشا۔بجز اس کے کوئی ایسا وجود نہیں ہے جو فی حد ذاتہ واجب اور قدیم ہو۔۔۔66 یہ تعریف ہے اللہ کے نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ ہونے کی کیونکہ نُورُ السَّمَواتِ وَالْاَرْضِ فی ذاتہ ہیں نہ واجب ہیں یعنی اپنی ذات میں نہ ہمیشہ کے لئے قائم رہ سکتی ہیں نہ ہمیشہ سے ہیں۔پس یہ خدا کا نور نہیں ہیں بلکہ خدا کے نور کے مظہر ہیں۔یہ نتیجہ آخر پر نکلتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آخر پر یہ فقرہ زائد کرنا ایک بہت ہی اہم مسئلے کا حل کر گیا ہے جسے ہزار ہا سال سے فلسفی حل کرنے کی کوشش میں ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اگر اللہ نور ہے تو پھر جو چیز اس کا مظہر ہے وہ خدا ہی ہوئی۔اگر اس کے سوا کچھ نہیں تو ہم بھی خدا ، یہ بھیڑ بکریاں، یہ پتے ، یہ روشنی کی قسمیں، یہ کرہ ہائے ارض و سماوات یہ تمام کے تمام اللہ ہی ہیں۔وہ حد فاصل کیا ہے۔اس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہاں ظاہر فرمایا ہے کہ یہ سارے جو اللہ کا نور کہلاتے ہیں ان میں اور اللہ میں یہ فرق ہے کہ یہ نور صرف خدا کے نور کے حجاب ہیں۔فی ذاتہ ان میں نہ ہمیشہ سے ہونے کی صفت پائی جاتی ہے نہ ان میں سے کوئی چیز اپنی ذات میں قائم رہ سکتی ہے۔خدا اپنی تکوین کی تجلی جب کسی چیز سے اٹھائے وہ عدم ہو جائے گی اور خدا عدم ہو نہیں سکتا۔ان سب چیزوں کا ایک آغاز ہے اور خدا کا آغاز کوئی نہیں۔تو یہ حد فاصل آپ نے قائم فرما دی جس کے نتیجے میں یہ تو ہمات اٹھ گئے کہ یہ گویا خدا ہی ہیں اور کچھ نہیں ہیں۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: جو فی حد ذاتہ واجب اور قدیم ہو یا اس سے مستفیض نہ ہو بلکہ خاک اور افلاک اور انسان اور حیوان، حج اور شجر اور روح اور جسم سب اسی کے فیضان سے وجود پذیر ہیں۔۔۔66 کوئی بھی ایسا وجود کا تصور نہیں ہوسکتا جو خدا کے فیض کے بغیر اپنی ذات میں قائم رہ سکتا ہو۔66۔۔۔یہی فیضان ہے جس نے دائرہ کی طرح ہر ایک چیز پر احاطہ کر رکھا ہے۔۔۔کوئی بھی وجود جس کا آپ تصور کر سکتے ہیں اس دائرے سے باہر نہیں جاسکتا۔خدا کے فیضان کے دائرے کے اندر رہے گا۔