خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 831
خطبات طاہر جلد 14 831 خطبہ جمعہ 3 رنومبر 1995ء معاملہ کرتا ہے اور انا عند ظن عبدی بی کا ایک یہ بھی معنی ہے کہ میں اپنے بندے کے اس فن کے مطابق ہو جاتا ہوں جو وہ میرے متعلق کرتا ہے۔اگر وہ طن خیر ہے تو خود بھی ویسا ہی بنے گا۔اگر وہ ظن بد ہے تو وہ خود بھی ویسا ہی بن رہا ہوگا تو اللہ اس سے ویسا ہی سلوک کرنے لگ جاتا ہے۔پس اگر وہ بخیل ہے تو اسی حد تک اپنے فیض کا ہاتھ اس سے روک لیتا ہے تبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرما رہے ہیں کہ ہر پلیدی سے بدتر اور بد بخت پلیدی بخل ہے کیونکہ جو فیض کے لافانی چشمے سے محروم رہ جائے اس سے زیادہ پلید اور کیا چیز ہوگی۔اس میں تو کچھ بھی نہیں رہتا سوائے گند کے۔پس مالی نظام محض جماعتی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے نہیں ہے۔ہر اس فرد کی روحانی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے ہے جو اس مالی نظام میں حصہ لیتا ہے اور مالی نظام میں اس کی روح کو سمجھتے ہوئے جہاں تک ممکن ہو سرا، جہاں تک ممکن ہو جھرا بھی حصہ لینے کے نتیجے میں جو فیض جماعت پاتی ہے اس پر ہر فر د جماعت گواہ ہے۔اتنے مختلف طریق سے یہ فیض عطا ہوتے ہیں کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے اور اس طرح خدا ان کو بعض دفعہ گنتی کر کر کے ان کی قربانیاں واپس کرتا ہے اس لئے نہیں کہ خدا زیادہ دے نہیں سکتا اس لئے کہ فوراً زیادہ دیا جائے تو ان کو پتا ہی نہیں لگے گا کہ کیوں ملا ہے۔مگر ایک شخص ہے جس نے اپنی جمع شدہ پونچی میں سے کل کی کل پیش کرنے کا فیصلہ کر دیا جبکہ دوسری ضروریات تھیں مثلاً چار ہزار دوسو بائیس مارک تھے غالباً یہی تعداد تھی ، Figure تھی۔اس نے کہا میں نے اب دے دینا ہے ورنہ پھر کوئی پتا نہیں کہاں چلا جائے اور اس کے بعد اس کو ایک ایسی رقم ملتی ہے جس کا اس کو وہم و گمان بھی نہیں تھا اور وہ شمار کرتا ہے تو بعینہ چار ہزار دوسو بائیس مارک بنتی ہے۔اب کوئی یہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ تو کہتا ہے میں بڑھا کے دیتا ہوں تو یہ کیوں دیا۔امر واقعہ یہ ہے کہ بڑھانے کا مضمون بھی سمجھنے سے تعلق رکھتا ہے۔مال جب بڑھایا جاتا ہے، جتنا دیا ہے اس سے زیادہ دیا جاتا ہے تو خوشی ہی تو بڑھائی جاتی ہے اور اس میں کیا چیز ہے۔اگر مال بڑھے اور خوشی نہ ہو تو مال جیسا بڑھا ویسانہ بڑھا۔اللہ بہتر جانتا ہے کہ میں اپنے بندوں کو کس طرح زیادہ خوشی پہنچا سکتا ہوں۔ایسا شخص جس کو یہ علم ہو جائے کہ اللہ کے علم میں آچکا ہوں اور اس نے مجھے بتانے کے لئے مجھ سے یہ احسان کا سلوک کیا ہے وہ تو چھلانگیں مارتا پھرتا ہے۔اس کو تو اگر چار لاکھ مارک بھی مل جاتے تو ایسی خوشی نصیب نہ ہوتی جیسی اس طرح خوشی نصیب ہوئی کہ اللہ کی خاطر میں