خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 826
خطبات طاہر جلد 14 826 خطبہ جمعہ 3 /نومبر 1995ء ا کرنے کو فوقیت دیتے ہیں سر کو لیکن مجبوریاں ہیں بعض دفعہ اگر سو ہی رہے تو سارے مومنین سر میں جو جذ بے کو آگے بڑھانے کا نظام ہے اس میں کمزوری آجائے گی اور ان کا اعلان ، ان کا جہر اپنی ذات کو نمایاں کرنے کے لئے نہیں بلکہ دوسرے مومنوں میں قربانی کا جذبہ بڑھانے کی خاطر ہوتا ہے اور اسی وجہ سے نظام جماعت کو بعض دفعہ ان کے ذکر بھی کرنے پڑتے ہیں۔اگر انفرادی طور پر نہ کیا جائے تو جماعتی طور پر کرنے پڑتے ہیں اور جماعتی طور پر جب ظاہر کئے جاتے ہیں تو جماعت کی عمومی انا کوضرور کچھ تسکین ملتی ہو گی مگر یہ وہ تسکین ہے جو اللہ کی خاطر قربانی کرنے کے احساس کے نتیجے میں ملتی ہے۔اس لئے یہاں انا کی تسکین نا جائز نہیں بلکہ پر لطف بھی ہے اور جائز بھی ہے۔مگر انفرادی طور پر اگر بار بار نام لئے جائیں جو بعض دفعہ کبھی کبھی لینے بھی پڑتے ہیں تو اس صورت میں خطرہ یہ ہے کہ اس فرد کی انا موٹی ہو جائے اور محض اللہ تسکین نہ پائے بلکہ اس کی جو اپنے دکھاوے کی فطری تمنا ہے، اپنے آپ کو بڑا دکھانے کا جو جذ بہ زندہ چیز میں پایا جاتا ہے وہ جذ بہ موٹا ہو جائے اور اسی حد تک وہ خدا کے قرب سے محروم ہوتا چلا جائے۔پس یہ سارے جو توازن ہیں ان کو برقرار رکھنا پڑتا ہے اور کبھی ایک پہلو پر زور دیا جاتا ہے کبھی دوسرے پہلو پر۔مگر جہاں تک جماعتوں کی دوڑ کا تعلق ہے میں سمجھتا ہوں کہ اللہ کے فضل سے اس میں کوئی قباحت کا پہلو نہیں ہے، کم از کم اب تک ہمیں کوئی قباحت کا پہلو دکھائی نہیں دیا۔اس لئے پہلے تو بسا اوقات نام بھی لئے جاتے تھے مگر اب حتی المقدور میری کوشش یہی ہے کہ جماعتی مواز نے کئے جائیں اور انفرادی مواز نے نہ کئے جائیں۔انفرادی موازنہ ہے ضروری لیکن ہر شخص کے لئے ضروری ہے۔اس لئے میرے خطبے کے اس پہلے حصہ کا اس انفرادی موازنے سے تعلق تھا جو میں چاہتا ہوں آپ میں سے ہر ایک اور میں بھی، ہم سب ہمیشہ کرتے رہیں اور وہ موازنہ ہے صفات حسنہ کا جو کامل تصور خدا تعالیٰ نے پیش فرمایا ہے یعنی ان عباد الرحمن کا جو عبد مملوک نہیں رہے، جو شیطان کی غلامی سے کامل طور پر آزاد ہو گئے ہیں، جن کی دولت ، جن کی ملکیت ان کی غلام ہے۔وہ نہ اپنی دولت کے غلام ہیں، نہ اپنی ملکیت کے، نہ اپنی اولاد کے، نہ اپنے عزیزوں کے، نہ نفسانی خواہشات کے ، وہ جب آزاد ہوتے ہیں تو پھر خدا کی راہ میں کیسے کیسے خرچ کرتے ہیں اس کی تفصیل قرآن کریم میں جگہ جگہ دکھائی دیتی ہے اور آنحضرت اور آپ کے صحابہ کی سیرت میں ملتی ہے۔پس اس موازنے سے مراد یہ ہے کہ اپنا موازنہ ان صلى الله