خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 825
خطبات طاہر جلد 14 825 خطبہ جمعہ 3 نومبر 1995ء لگنے لگی ہیں اور وہیں سے اس کا سفر ترقی معکوس کی طرف الٹ جاتا ہے۔پس مالی نظام سے وابستہ جماعت کو مالی نظام کی تقویٰ کی باریک راہوں پر ہمیشہ نظر رکھنی چاہئے کیونکہ جو خدا کے دین کی ضرورت ہے، تحریک تو اس کی خاطر کی جاتی ہے، مگر وہ ضرورت پورا کرنا اس نظام کی پوری تصویر نہیں ہے۔اس نظام کے پس منظر میں جو سر انعامات ہیں اللہ تعالیٰ کے وہ اس سے زیادہ ہیں جو ضرورت کی صورت میں ہمیں دکھائی دیتے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے بھی اس مضمون پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور بہت باریک نکات ہمارے سامنے رکھے ہیں اور ان سب کی بنیا د قرآن کریم کی آیات پر ہے اور حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کے ارشادات پر ہے۔اس لئے مالی نظام کا وہ پہلو تو ہمیں جماعت میں دکھائی دے رہا ہے جو ضرورت حقہ پوری کرتے وقت دکھائی دیتا ہے۔یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ الحمد للہ ، اللہ تعالیٰ نے آج کے زمانے میں ایک ہی منفرد جماعت دنیا میں پیدا فرمائی ہے۔جو خالصہ اللہ وہ قربانی کرتی چلی جاتی ہے جو دنیا کی نظر میں کمر توڑنے والے بوجھ ہیں۔جو عام دنیا دار کے اوپر ڈالے جائیں خواہ وہ ٹیکس کی صورت میں ڈالے جائیں یا اور کسی بہانے سے تو تمام دنیا کا انسان اس نظام کے خلاف بغاوت کر دے اور دنیا کا امن برباد ہو جائے۔انسان اتنے بوجھ اٹھا ہی نہیں سکتا خواہ قانون کی مجبوری سے بھی اٹھانے پڑیں لیکن ایک جماعت ایسی ہے جو جتنا بوجھ اٹھاتی ہے اور زیادہ دل چاہتا ہے کہ اور بھی اس میں اضافہ کرتے چلے جائیں ، اور نظریں ڈھونڈتی ہیں، اپنی جیبوں کی تلاش کرتی ہیں، اپنے عزیزوں کی جیبوں کو تلاش کرتی ہیں ، بہانے ڈھونڈتی ہیں کس طریقے سے ہم کچھ خرچ کم کر دیں، کس طریقے سے محنت زیادہ کر کے کمائی زیادہ کریں تا کہ یہ ضرورت پوری ہواور ہمارے دل کو چین نصیب ہو۔تو یہ سفر جو ہے یہ عبودیت کی طرف عبد کا سفر ہے، عباد الرحمن کی جانب سفر ہے، جس کی تفصیل اس آیت میں ملتی ہے کہ پھر وہ خدا کے رنگ اختیار کر کے مخفی بھی خرچ کرتے ہیں اور جھرا بھی۔اب مخفی کو پہلے رکھنا بتا رہا ہے کہ مخفی کو فوقیت دیتے ہیں۔پس یہ بات جو میں نے بیان کی ہے کہ ان کا سفر مخفی نظام قربانی کو بڑھانے کی طرف رکھنا بتا رہا ہے کہ مخفی کو فوقیت دیتے ہیں اور ظاہر کا نمبر بعد میں آتا ہے۔یہ اس آیت کے کلمات کی ترتیب سے ظاہر ہے سِرًّا وَ جَهرا دل ان کا چاہتا ہے