خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 822
خطبات طاہر جلد 14 822 خطبہ جمعہ 3 رنومبر 1995ء کو جن کو عطا کی گئی ہیں، اس کا شعور ہی ہوتا ہے کہ میں کن کن صفات کا مالک ہوں۔نہ وہ گفتگو میں ظاہر ہوتی ہیں۔اب سائنس دان مثلاً انسان کے اندرونی اعضاء کی ، جو خفی اعضاء ہیں انسان کی نظر سے ، ان کی جو صفات معلوم کر رہے ہیں یہ تو ابھی سفر کا آغاز ہے مگر جتنی بھی معلوم کر چکے ہیں بے انتہا علم کے خزانے ہیں جو ہمارے ہاتھ آئے ہیں اور ان کے متعلق کوئی شور نہیں تھا، کچھ بتایا ہی نہیں گیا ، کوئی احسان تفصیل سے جتایا نہیں گیا۔اللہ کے مخفی ہاتھ نے ایک عطا کر دی ہے اور وہ ساری کائنات میں اسی طرح ایک مخفی ہاتھ سے عطا کرتا چلا جاتا ہے اور بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ اس عطا کو کھل کر اپنے جو ہر دکھانے کا موقع ملتا ہے وہ آواز کی صورت میں دوسروں تک پہنچتی ہے۔انسان کو جو صفات حسنہ عطا کی گئی ہیں ان میں انسان بولتا بھی ہے لکھتا بھی ہے، اپنے کلام کے ذریعے، اپنے اشاروں کے ذریعے ، اپنی دوسری صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بنی نوع انسان پر اپنی صفات کو اس طرح ظاہر کرتا ہے کہ اس کی انا اس سے تسکین پاتی ہے۔پس وہ تو اپنی تسکین انا کی خاطر کرتا ہے مگر در حقیقت یہ اللہ کا ہاتھ ہے جو اس کے اندر بول رہا ہے۔اس کی نیت اور ہے مگر اللہ نے اس کو وہ صلاحیت بخشی ہے جو بلند آواز سے بتا سکتی ہے کہ میں ایک صلاحیت ہوں۔ایسی نعمتیں عطا کی ہیں جن میں طاقت ہے اپنے اظہار کی اور وہ پھر چھپی نہیں رہتیں اور اس مضمون کا تعلق صرف لفظی اظہار سے نہیں ہے یا تحریری اظہار سے نہیں ہے بلکہ عملاً بہت سی ایسی نعمتیں ہیں جو اپنی زبان حال سے بولتی ہیں۔آنکھیں ہیں ، ایک انسان جو آنکھوں والا پھر رہا ہے اس کی آنکھوں کی طرف خواہ آنکھوں والے کا دھیان عام طور پر نہ بھی جائے یا خود اپنی آنکھوں پر بھی غور نہ کرے مگر جب کوئی اندھا دیکھتا ہے تو اس کی آنکھیں بولنے لگتی ہیں اور جن آنکھوں کو وہ دیکھتا ہے وہ بھی بولنے لگتی ہیں۔انسان کو بتاتی ہیں کہ اللہ کا بڑا احسان تھا جو سرا تھا تمہاری نظر سے مگر عملاً تو جھرا ہے۔یہ تو ہر وقت دکھائی دینے والی چیز ہے۔اس کا پیغام ہر لمحہ سمجھنے والا ، سننے والا اور سمجھنے والا ہے۔زبان بولتی ہے کبھی خیال بھی نہیں آتا کہ یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے جو کھلی اور ظاہر نعمت ہے۔مگر جب گونگے سے بات کرنی پڑے کسی گونگے کو مشکلات میں مبتلا دیکھیں تب سمجھ آتی ہے کہ یہ تو ایک خدا کا انعام جہر ہے۔نوک پلک درست ہو انسان کے چہرے کی، دونوں آنکھیں ہوں، ناک