خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 805
خطبات طاہر جلد 14 805 خطبہ جمعہ 27 اکتوبر 1995ء۔راست نہیں۔ایک کانوں کا پردہ آپ کو عطا ہوا ہے اس پردے پہ اگر ویسا ہی تموج پیدا ہو جائے جیسا کہ بات کرنے والے نے اس کو چلایا تھا تو وہ تموج پر دے کو متحرک کر کے ایک ایسے حسی تار کے ذریعے دماغ تک پہنچتا ہے جس کو ہم Auditory Nerve کہتے ہیں یعنی سماعت کا وہ حسی ریشہ، Nerve کا ترجمہ میرے لئے اردو میں مشکل ہے لیکن مراد یہ ہے کہ وہ ریشہ جوکسی چیز سے بنا ہوا ہے اور وہ حسیات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے کام آتا ہے۔اب وہ ریشہ بھی اس تموج کو غیر صوتی انداز میں دماغ تک منتقل کرتا ہے، پردے کی حد تک صوت ٹھہر گئی اس کے بعد جب وہ حرکت منتقل ہوئی تو ایسے صوتی ریشے میں منتقل ہوئی ہے جس نے اس آواز کے تموج کے مطابق خود لرزتے ہوئے اس پیغام کو بغیر شور کے آگے پہنچانا ہے۔دماغ کے اندر جو اعصابی ریشے بے انتہا کام کر رہے ہیں ، ان گنت میلوں کا سفر یہ حرکتیں ہر روز ہر وقت ہمارے دماغ میں کر رہی ہیں، ان کا کوئی شور نہیں ہے۔اس لئے ایک صوتی نظام کو ایک بے آواز نظام میں تبدیل کیا گیا اور وہ تموج کی آخری شکل ہے جو ذ ہن سنتا ہے۔یعنی سنتا ہے لیکن سنتا نہیں بھی ہے۔کوئی شور نہیں ، کوئی آواز نہیں مگر اس کا پیغام سمجھ جاتا ہے کیونکہ تموج کی شکل وہی ہے۔اب یہ جو نظام ہے اس پر غور کریں تو پھر آپ نور کی اس مثال کو بھی سمجھنے کی زیادہ اہلیت رکھیں گے ، جو میں آپ کے سامنے رکھنے والا ہوں، جو قرآن کریم نے ہمارے سامنے بیان فرمائی ہے۔جہاں گلے کی حرکت، آواز کا زور سے نکلنا ، اس کی شدت جہاں تک اس میں قوت کے استعمال کا تعلق ہے یہ کیسے ہوا۔اس کا آغاز ذہن سے ہوا اور ذہن میں کوئی شور نہیں تھا۔ذہن میں کوئی تصور ایسا نہیں تھا جسے محسوس کیا جاسکے، جسے سنا جاسکے۔پس لطیف تر تموج پہلے پیدا ہوتا ہے اور پھر وہ کثیف یعنی گاڑھے اور مادی اور دکھائی دینے والے اور سنائی دینے والے تموج میں تبدیل ہو جاتا ہے یا محسوس ہونے والے تموج میں تبدیل ہو جاتا ہے۔اول طاقت جو پس پردہ ہے وہ بے آواز ہے اور وہ طاقت جو ہم جانتے ہیں وہ آواز رکھتی ہے، ایک شور رکھتی ہے، ایک ہنگامے کی کیفیت رکھتی ہے۔ایسی شدت بھی اختیار کر سکتی ہے کہ اس کے لرزنے سے بڑی بڑی عظیم چٹانوں میں دراڑ پڑ جائیں۔یہ صوتی تموج ایسی عظیم قوت بھی اختیار کر سکتا ہے کہ جس کے لرزنے سے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں۔پس اصل توانائی ہے مگر جہاں سے توانائی