خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 797
خطبات طاہر جلد 14 797 خطبہ جمعہ 20 اکتوبر 1995ء اس وقت یہ چار صفتیں آٹھ معلوم ہوں گی۔اسی کی طرف اشارہ ہے جو فرمایا گیا ہے کہ اس دنیا میں چار فرشتے خدا تعالیٰ کا عرش اٹھا رہے ہیں اور اس دن آٹھ فرشتے خدا تعالیٰ کا عرش اٹھائیں گے۔یہ استعارہ کے طور پر کلام ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی ہر صفت کے مناسب حال ایک فرشتہ بھی پیدا کیا گیا ہے۔۔۔66 مگر صفت کے مناسب حال پیدا کیا گیا ہے وہ خود وہ صفت نہیں ہے۔اس لئے چار صفات کے متعلق چار فرشتے بیان کئے گئے اور جب آٹھ صفات کی تجلی ہو گی تو ان صفات کے ساتھ آٹھ فرشتے ہوں گے کیونکہ ان صفات کے مناسب حال فرشتہ پیدا کیا جائے گا۔اور چونکہ یہ صفات الوہیت کی ماہیت کو ایسا بھنا اپنے اوپر لئے ہوئے ہیں کو یا اس کو اٹھا رہے ہیں۔یہ صفات ہیں جو الوہیت کی ماہیت کو گویا ایسے اپنے اوپر لئے ہوئے ہیں گویا اس کو اٹھا رہے ہیں۔اس لئے استعارہ کے طور پر اٹھانے کا لفظ بولا گیا ہے۔ایسے استعارات لطیفہ خدا تعالیٰ کی کلام میں بہت ہیں جن میں روحانیت کو جسمانی رنگ میں دکھایا گیا ہے۔۔۔ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 252-251) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اب واضح ہو کہ خدا تعالیٰ نے اس سورۃ میں ان چار صفتوں کو اپنی الوہیت کا مظہر اتم قرار دیا ہے اور اسی لئے صرف اس قدر ذکر پر نتیجہ مرتب کیا ہے کہ ایسا خدا کہ یہ چار صفتیں اپنے اندر رکھتا ہے وہی لائق پرستش ہے اور در حقیقت یہ صفتیں بہر وجہ کامل ہیں اور ایک دائرہ کے طور پر الوہیت کے تمام لوازم اور شرائط پر محیط ہیں کیونکہ ان صفتوں میں خدا کی ابتدائی صفات کا بھی ذکر ہے اور درمیانی زمانوں کی رحمانیت اور رحیمیت کا بھی ذکر ہے اور پھر آخری زمانہ کی صفت مجازات کا بھی ذکر ہے اور اصولی طور پر کوئی فعل اللہ تعالیٰ کا ان چار صفتوں سے باہر نہیں۔پس یہ چار صفتیں خدا تعالیٰ کی پوری صورت دکھاتی ہیں سو