خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 796 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 796

خطبات طاہر جلد 14 796 خطبہ جمعہ 20 /اکتوبر 1995ء والا کلام ہے۔باوجود اس کے کہ یہ چاروں صفات اس شان سے جلوہ گر ہیں کہ ان کے چھپنے، ان کے مخفی ہونے کا سوال ہی کوئی نہیں پیدا ہوتا۔کون سی وہ جگہ ہے، کون سی وہ فضا ہے جہاں رحمانیت جلوہ گر نہیں، جہاں ربوبیت جلوہ گر نہیں ، جہاں رحمانیت نہیں اس کی مالکیت کی شان جلوہ گر نہیں۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ انسان ایسا غافل ہے کہ اس کو بہت دور کی نظر میں کہیں کہیں دکھائی دیتا ہے یعنی زندگی میں شاذ کے طور پر اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کا کوئی رب ہے۔کبھی دھیان جاتا ہے، غور کرتا ہے، ہاں شاید رحمان بھی ہے۔فرمایا، یہ عجیب شان ہے قریب تر ہوتے ہوئے بھی دورتر بھی ہو جاتا ہے معنے ہیں، اس کے یعنی ایک معنے یہ بھی ہیں۔بعض انسانوں کے قریب تر ہے جن کو ہر وقت خدا تعالیٰ کی صفات دکھائی دیتی ہیں ہر جلوے میں، صبح شام، اٹھتے بیٹھتے يَذْكُرُونَ الله قيمًا وَقُعُودًا وَ عَلَى جُنُوبِهِمْ ( آل عمران : 192) وہ کھڑے ہو کے بھی یاد کرتے ہیں، بیٹھ کے بھی یاد کرتے ہیں، پہلوؤں کے بل لیٹے ہوئے بھی یاد کرتے ہیں ان کو ہر طرف، چاروں طرف، صفات باری تعالی دکھائی دیتی ہیں اور وہ ہیں جن کو بہت دور دکھائی دیتا ہے خدا۔تو خدا بیک وقت قریب بھی ہے اور دور بھی ہے۔مگر جسمانی لحاظ سے قریب ہوتایا بہتا ہوانہ دکھائی دیتا ہے ندوہ بھی ایسا کرتا ہے۔اپنی جلوہ گری میں بیک وقت وہ نزدیک بھی ہے اور دور بھی ہے، شہ رگ کے قریب بھی ہے۔۔۔۔لیکن عالم معاد میں پورا نظارہ ان صفات اربعہ کا ہوگا اس لئے دو حقیقی اور کامل طور پر يَوْمِ الدِّینِ وہی ہوگا جو عالم معاد ہے۔۔۔“ جو آخر پر جہاں پہنچنا ہے ہم سب نے وہ عالم جو ہے اس میں اس کا پورا نظارہ ہوگا۔اس عالم میں ہر ایک صفت ان صفات اربعہ میں سے دو ہری طور پر اپنی شکل دکھائے گی“۔اب دیکھیں یہ پڑھ کے میری روح وجد میں آگئی کیونکہ میری پہلے اس پر نظر نہیں تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہ بات یقین کی طرح گاڑ دی تھی کہ یہی چار صفات ہیں جو بصارت کی تیزی کے نتیجے میں ، روح کی نئی لطافتوں کے نتیجے میں دگنی ہو کے دکھائی دیں گی اور قرب کے نتیجے میں ایک چیز بڑی دکھائی دیتی ہے۔اب دیکھیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بعینہ یہی بات فرما رہے ہیں۔فرماتے ہیں: