خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 75
خطبات طاہر جلد 14 75 خطبہ جمعہ 27 جنوری 1995ء منزل مراد کو پا بھی رہا ہے اور پھر آخر پر میں اسی حدیث کے مضمون کی طرف آپ کی توجہ مبذول کراتا ہوں کہ وہ گناہ گار جس نے سفر شروع کیا تھا اس کا یہی حال تھا۔اس نے دراصل ایک ایسا سفر شروع کیا تھا جو لا متناہی تھا کیونکہ فی الحقیقت اگر آپ گناہوں کا شعور حاصل کریں تو کبھی بھی یہ ممکن نہیں کہ کلیۂ گناہوں کے داغ دھونے کے بعد اس شہر کو جو دل میں بستا ہے نیکی کا شہر قرار دے سکیں۔مگر ہر قدم جواٹھتا ہے وہ کچھ فرحت، کچھ مغفرت کے وعدے لے کر ضرور آتا ہے اور وہی پہلو ہے جس کی طرف یہ حدیث یعنی اس پہلو کی طرف بھی یہ حدیث اشارہ کر رہی ہے کہ تم سفر شروع کر دو۔یہ سفر نہ ختم ہونے والا ہے مگر اللہ اپنی مغفرت اور رحمت سے جس طرح پیمائشیں کرتا ہے اس پہلو سے ہر مسافر ، ہر مقام پر جہاں بھی وہ مرتا ہے بخشش کی حالت میں جان دیتا ہے۔پس اے گناہ گار بندو! جن میں میں بھی شامل ہوں اور اول طور پر شامل ہوں۔خدا کی بخشش سے مایوس نہ ہو اور ان امور کا شعور حاصل کر کے ان کا عرفان حاصل کر کے اپنے رمضان کو زندہ کر دو اور جگادو اور اس حالت میں اس رمضان سے باہر نکلو کہ اس کی برکتیں تمہارا ساتھ نہ چھوڑیں اور وہ نیکیاں جو اس رمضان میں تم کما لو وہ پیچھے رہ جانے والی نہ ہوں بلکہ قدم قدم تمہارے ساتھ آگے بڑھیں۔اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین