خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 74
خطبات طاہر جلد 14 74 خطبہ جمعہ 27 جنوری 1995ء يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ کوئی آنکھ نہیں ہے جو کہ اس کا ادراک کر سکے۔وہ آنکھوں کو پاتا ہے یعنی ان تک پہنچتا ہےاور خود اپنے جلوے دکھاتا ہے اور اس کا ہر جلوہ لامتناہی ہے۔آن میں کچھ ہے، آن میں کچھ ہے۔كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ ہر روز، ہر آن اس کے جلوے بدلتے ہیں اور لا متناہی ہیں۔آج ایک شان سے ظاہر ہو رہا ہے کل دوسری شان سے ظاہر ہورہا ہے۔ہم تو موسموں میں بھی نہیں پہچانتے کہ یہ خدا ہی کی شانیں ہیں جو بدل رہی ہیں لیکن گہرے عرفان کے معاملے جب ہوں تو اکثر آنکھیں ان باتوں کے ادراک سے اندھی رہتی ہیں اللہ ہی توفیق عطا کرے تو عطا ہوتی ہے۔پس وہ ہاتھ جو دعا کے لئے اٹھیں، جو لقاء باری تعالی مانگیں وہ حقیقت میں ایک ایسی چیز مانگتے ہیں جس کی لقاء کا سفر کبھی ختم ہو ہی نہیں سکتا۔ہر منزل کے بعد ایک اور منزل ہے لیکن ہر منزل کچھ لقاء کا لطف ضرور دیتی ہے۔یہ ایسا دور کا وعدہ نہیں کہ اس کی پیروی میں آپ مسلسل سفر کرتے رہیں اور جب تک وہ آخری مقام نہ پہنچے آپ سیراب نہیں ہو سکتے۔اللہ تعالیٰ نے ایسے سفر کی مثال دنیاوی گمراہیوں میں بھٹکنے کی مثال کے طور پر پیش فرمائی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ لوگ جو دنیا کی لذتوں میں اور عیش و طرب میں جدو جہد کرتے چلے جاتے ہیں ان کی مثال ایک ایسے شخص کی سی ہے جو سراب کے پیچھے پانی سمجھ کر دوڑ رہا ہو اور ہر قدم سراب اسی رفتار سے آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔یہاں تک کہ وہ مقام جسے وہ پانی کا مقام سمجھتا تھا، جب وہاں پہنچتا ہے تو اللہ کو اپنا حساب دینے کے لئے وہاں موجود پاتا ہے اور کوئی سیرابی نصیب نہیں ہوتی۔تو نعوذ باللہ خدا کی لقاء کا سفر سراب کا سفر نہیں ہے بلکہ ہر قدم آپ نہ صرف اس پانی کے سرچشمہ کے قریب ہوتے ہیں بلکہ اس سے سیراب بھی ہوتے چلے جاتے ہیں لیکن وہ ایک لامتناہی چشمہ ہے جس کی سیرابی کی طاقت آپ کے آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہے۔آپ سیرابی محسوس بھی کرتے ہیں لیکن آئندہ آنے والی سیرابی کے تصور سے آپ کے دل میں ایک نئی پیاس بھی جاگ اٹھتی ہے اور پھر جوں جوں پیاس بڑھتی ہے توں توں اس خدا کی لقاء کے پانی میں سیراب کرنے کی طاقت بھی بڑھتی چلی جاتی ہے۔تو یہ دعا کریں کہ اے خدا! اس رمضان میں ہمیں وہ لقاء نصیب فرما جو جاری و ساری لقاء ہے جس کا سفر کہیں ختم نہیں ہوتا۔کسی منزل پر بھی اس لقاء کو ہم ایک آخری منزل مراد قرار نہیں دے سکتے۔یہ وہ منزل مراد ہے جو ساتھ ساتھ چلتی ہے، ہر قدم منزل مراد کی طرف اٹھ رہا ہے اور ہر قدم