خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 793
خطبات طاہر جلد 14 793 خطبہ جمعہ 20 /اکتوبر 1995ء ان استعدادوں سے وہ پھر نیک اعمال رونما ہونے میں رحیمیت مددفرماتی ہے۔۔۔۔اور اس طرح پر ان کو آفات سے بچاتا ہے اور یہ صفت بھی اس کے پوشیدہ وجود کو ظاہر کرتی ہے۔چوتھی صفت مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ کی ہے یہ بھی اس کے پوشیدہ وجود کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ نیکوں کو جزاء اور بدوں کو 66 سزا دیتا ہے۔۔۔" یہ بہت ہی اختصار سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے کیونکہ چشمہ معرفت میں ایک ہندوؤں کو عقل دینے کے لئے ، ان کو سمجھانے کے لئے ، ان کے فلسفوں کے رد کے طور پر قرآنی فلسفہ کے ایسے نکات ان کے سامنے رکھے مثالیں دے دے کر کہ ان کو سمجھ آئے اور ان کے وید سے بھی وہ حوالے پیش کئے جن سے وہ سمجھیں کہ ہم نے خود دید ہی کی تعلیم کو غلط سمجھا تھا اور قرآنی تعلیم ہی ہے جو وید کو بھی سچا کر کے دکھاتی ہے ورنہ اس تعلیم کی روشنی کے بغیر وید محض جھوٹی ثابت ہوتی ہے۔یہ طرز کلام ہے اس لئے یہاں بہت تفصیل بیان نہیں فرمائی، ضمنا ذکر فرمایا ہے۔۔۔۔یہ چاروں صفتیں ہیں جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں۔“ وو چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ: 279) اب دیکھ لیں یہ صفتیں ہیں جو اٹھائے ہوئے ہیں اس لئے ملائکہ کے حوالے سے تمثیل کے طور پر عرش اٹھانے کا ذکر ملتا ہے اور یہ صفات کس نے اٹھائی ہیں۔اللہ تعالیٰ کی صفات تو خود خداس کی ہیں، اٹھانے کا مطلب یہاں صرف یہ بنے گا ان معنوں میں کہ جس کے دل پر جلوہ گر ہوئیں، جس کی روح جس کے مزاج میں سرایت کر گئیں۔اس پہلو سے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کیونکہ صفات باری تعالیٰ کو اپنی ذات میں، اپنے وجود پر اٹھانے میں درجہ کمال کی انتہا کو پہنچ گئے وہ آخری انتہا جہاں تک کمال پہنچ سکتا تھا۔اس لئے میں بار بار یہ کہتا ہوں کہ میرے نزدیک عرش کا اعلیٰ اور ارفع معنی جو اس دنیا میں ہیں دکھائی دیتا ہے وہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا دل ہے جس پر عرش الہی جلوہ گر ہوا ہے۔پس یہاں بھی ہم تمثیلاً دل کو عرش کہتے ہیں مگر دل عرش نہیں ہے۔دل پر عرش نازل ہوا ہے یعنی صفات باری تعالٰی نازل ہوئی ہیں۔وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ (الاحزاب: 73) اب آپ کو سمجھ آئے گی که وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ کے کیا معنے ہیں۔آسمان، زمین ، پہاڑوں اور ہر چیز نے انکار کر دیا کہ ہم